1فرفوریوس صوری
فرفوریوس تیسری صدی عیسوی میں فینیقیہ (آج لبنان) کے شہر صور میں پیدا ہوئے۔ ان کی صحیح تاریخیں غیر یقینی ہیں: اسٹینفورڈ انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی ۲۳۴؟–۳۰۵؟ بتاتا ہے، سریانی ورثے کی لغت تقریباً ۲۳۲–تقریباً ۳۰۵، اور ترکی کا اسلامی انسائیکلوپیڈیا (TDV) ان کی وفات ۳۰۴ بتاتا ہے۔ ان کا اصل نام ملکوس یعنی “بادشاہ” تھا، جو یونانی میں باسیلیوس (“بادشاہ”) بن گیا۔
انھوں نے ایتھنز میں افلاطونی فلسفی لونگینوس سے، اور پھر ۲۶۳ سے ۲۶۹ تک روم میں فلوطین سے پڑھا، جو اس مکتب کے بانی ہیں جسے آج نوافلاطونیت کہا جاتا ہے۔ ۲۶۸ میں، فلوطین کے مشورے پر، وہ افسردگی سے صحت یاب ہونے کے لیے سسلی گئے اور ۲۷۰ میں اپنے استاد کی وفات کے بعد بھی وہیں رہے۔ تقریباً ۳۰۱ میں انھوں نے فلوطین کی تحریروں کو تاسوعات (Enneads) کے طور پر مرتب کیا، اور ان کے شروع میں حیاتِ فلوطین رکھی۔
تقریباً ساٹھ تصانیف ان سے منسوب ہیں، جن میں سے اکثر اب گم ہیں یا ٹکڑوں کی صورت میں ہیں، ان میں عیسائیوں کے خلاف ان کی مناظرانہ کتاب بھی ہے۔ فلوطین کے برعکس فرفوریوس ارسطو اور افلاطون میں تطبیق کی طرف مائل تھے۔ وہ پہلے افلاطونی تھے جنھوں نے ارسطو کی منطقی تصانیف پر باقاعدہ شروح لکھیں، اور انھوں نے مقولات کو نوافلاطونی مدارس میں ایک بنیادی متن بنا دیا۔ عربی میں انھیں فرفوریوس (فُرْفُورِيُوس) کہا جاتا ہے۔
2انھوں نے یہ کب اور کیوں لکھی
کتاب ایک شاگرد، خروسائوریوس، سے خطاب سے شروع ہوتی ہے: ارسطو کی مقولات سمجھنے کے لیے، اور تعریفیں دینے کے لیے بھی، یہ جاننا ضروری ہے کہ ، ، ، اور عرض کیا ہیں۔ فرفوریوس وعدہ کرتے ہیں کہ وہ مختصراً، ایک تعارف کے انداز میں، وہ بیان کریں گے جو پچھلے فلسفیوں نے ان پانچ کے بارے میں سکھایا، اور گہرے سوالات کو ایک طرف رکھیں گے۔
قدیم شارحین امونیوس، الیاس اور داؤد کے مطابق یہ کتاب خروسائوریوس کو بھیجی گئی؛ جدید حوالہ جاتی کتابیں اس کی تصنیف کو سسلی میں فرفوریوس کے قیام کے دوران، تقریباً ۲۶۸–۲۷۰، میں رکھتی ہیں۔ اسٹینفورڈ انسائیکلوپیڈیا اس کتاب کی کوئی تاریخ نہیں دیتا، اس لیے یہ تاریخ بعد کے شارحین کی روایت پر مبنی ہے۔
ایساغوجی مختصر ہے اور اس کا مقصد عملی ہے۔ یہ خود دس مقولات پر بحث نہیں کرتی بلکہ قاری کو وہ دیتی ہے جن سے ارسطو اور ان کے شارحین یہ بات کرتے ہیں کہ ایک لفظ دوسرے پر کیسے بولا جاتا ہے۔
3پانچ اصطلاحات
فرفوریوس پانچ طریقے بیان کرتے ہیں جن سے کوئی چیز کسی دوسری چیز پر بولی ( کی) جا سکتی ہے۔ ، جیسے “حیوان”، کئی ایسی چیزوں پر بولی جاتی ہے جو میں مختلف ہوں۔ نوع، جیسے “انسان”، وہ ہے جو کسی جنس کے تحت آئے۔ ، جیسے “ناطق”، وہ ہے جو کسی نوع کو اس کی جنس کے اندر ممتاز کرے۔ صرف ایک نوع کے لیے ہوتا ہے، جیسے انسان کے لیے ہنسنے کی صلاحیت۔ عرض وہ ہے جو اپنے کو ختم کیے بغیر آ اور جا سکے۔
خود ارسطو نے طوبیقا میں کبھی کبھی کی چار اقسام (، ، اور عرض) کو ہر قسم کے حمل پر حاوی قرار دیا تھا۔ بعد کے شارحین نے حد کی جگہ اور کو رکھا اور یوں پانچ “محمولات” تک پہنچے، لاطینی میں quinque voces یعنی “پانچ ”۔ عربی میں یہ خمسہ (الکلیات الخمس) بن گئے: جنس، نوع، فصل، خاصہ اور ۔ ابہری کی ایساغوجی خاصے کی مثال انسان کے لیے کلاسیکی مثال “ضاحک” سے دیتی ہے۔
پانچوں کی تعریف کے بعد کتاب کا دوسرا نصف ان کا دو دو کر کے موازنہ کرتا ہے: اور میں کیا مشترک ہے اور ان میں کیا فرق ہے، پھر جنس اور ، جنس اور ، اور یوں ہر جوڑے تک۔ ابنِ سینا سمیت بعد کے قارئین نے اس دوسرے حصے کو پہلے سے کم مفید سمجھا، لیکن یہ فرفوریوس کا یہ طریقہ دکھاتا ہے کہ وہ ہر اصطلاح کو دوسروں کے مقابلے میں متعین کرتے ہیں۔

4“شجرۂ فرفوریوس”
اور کے باب میں فرفوریوس مثال سے دکھاتے ہیں کہ سب سے عام سے سب سے خاص تک کیسے ترتیب پاتے ہیں۔ جوہر سب سے اونچی جنس ہے؛ اس کے نیچے جسم؛ جسم کے نیچے جسمِ نامی (جاندار جسم)؛ اس کے نیچے حیوان؛ حیوان کے نیچے حیوانِ ناطق؛ اس کے نیچے انسان؛ اور انسان کے نیچے سقراط اور افلاطون جیسے افراد۔
اس سلسلے کے درمیان ہر اپنے اوپر والے کی اور اپنے نیچے والے کی ہے۔ جوہر صرف جنس ہے، سب سے عام؛ “انسان” صرف نوع ہے، سب سے خاص۔ سقراط جیسے افراد بالکل نوع نہیں، کیونکہ ان کی مزید تقسیم نہیں ہو سکتی۔
قرونِ وسطیٰ کی درسی کتابوں نے اس سلسلے کو ایک درخت کی میں بنایا، “شجرۂ فرفوریوس”، اور اسے جوہر کی فرفوریوس کی درجہ بندی کی مثال کے طور پر استعمال کیا۔ اس کے پیچھے کے (ایک سب سے اونچی ، درمیانی جو جنس بھی ہیں اور بھی، اور افراد کے اوپر ایک سب سے نچلی نوع) خمسہ پر عربی شروح میں دوبارہ آتے ہیں۔
5وہ سوالات جو انھوں نے ایک طرف رکھ دیے
کتاب کے آغاز میں فرفوریوس جان بوجھ کر اجناس اور انواع کے بارے میں تین سوالات کا جواب نہیں دیتے: کیا وہ واقعی موجود ہیں یا صرف ہمارے خیالات میں ہیں؛ اگر موجود ہیں تو کیا وہ اجسام ہیں یا غیر جسمانی؛ اور کیا وہ الگ موجود ہیں یا محسوس چیزوں کے اندر۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے سوالات بہت گہرے ہیں اور ایک تعارف کی گنجائش سے زیادہ طویل تحقیق چاہتے ہیں۔
ان چند سطروں کی بعد کی زندگی طویل رہی۔ بوئیتھیئس کی لاطینی شروح کے ذریعے یہ “مسئلۂ ” پر قرونِ وسطیٰ کی بحث کا نقطۂ آغاز بنیں۔ عربی روایت میں ابنِ سینا نے ایساغوجی کی اپنی نئی تحریر میں کلیات کی حیثیت کا مسئلہ اٹھایا، جہاں، جیسا کہ ان کی جدید محققہ کہتی ہیں، محمولات کا نظریہ “ اور مابعد الطبیعیات کے سنگم پر” کھڑا ہے۔
ایک مبتدی کے لیے سبق وہی ہے جو فرفوریوس کا مقصد تھا: یہ طے کرنے سے پہلے کہ بالآخر کیا ہیں، میں ، اور باقی کو درست طور پر استعمال کرنا سیکھا جا سکتا ہے۔
6اس کی اہمیت کیوں تھی
اسکندریہ میں امونیوس کے مدرسے (پانچویں صدی کے آخر اور چھٹی صدی کے اوائل) میں فلسفے کا نصاب فلسفے کے تعارف سے شروع ہوتا تھا، پھر شرح کے ساتھ فرفوریوس کی ایساغوجی، پھر ارسطو کا تعارف، اور پھر مقولات۔ یوں فرفوریوس کی چھوٹی سی کتاب پورے ارسطو کا دروازہ بن گئی، اور اس نے یہ مقام بازنطین میں، سریانی اور عربی دنیا میں، اور لاطینی مغرب میں برقرار رکھا۔
عربی میں یہ فرفوریوس کی واحد تصنیف تھی جس کا ترجمہ محفوظ ہے۔ اسے ارسطو کی منطقی تصانیف کے ساتھ عربی ارغنون کے پہلے حصے کے طور پر شمار کیا گیا۔ بعد کی عربی درسی کتابیں، جن میں ابہری کی کتاب بھی ہے، اسی طرح تعریف، اور کی طرف جانے سے پہلے اور خمسہ سے شروع ہوتی ہیں، اور ابہری کی کتاب آج بھی فرفوریوس کا عنوان رکھتی ہے۔
یونانی متن آڈولف بُسّے (Adolf Busse) نے مرتب کیا (Commentaria in Aristotelem Graeca IV.1، برلن، ۱۸۸۷ء)۔ جوناتھن بارنز (Jonathan Barnes) نے مکمل شرح کے ساتھ ایک انگریزی ترجمہ شائع کیا (آکسفورڈ، ۲۰۰۳ء)، اور پرانے انگریزی تراجم آن لائن مفت دستیاب ہیں۔ TDV حمدی راغب آتادمیر (Hamdi Ragıp Atademir) اور بتول چوتوق سوکن (Betül Çotuksöken) کے ترکی تراجم کا ذکر کرتا ہے۔
Sources (15)
- Stanford Encyclopedia of Philosophy, ‘Porphyry’
- Gorgias Encyclopedic Dictionary of the Syriac Heritage, ‘Porphyry (ca. 232 – ca. 305)’ (Sebastian P. Brock)
- TDV İslâm Ansiklopedisi, ‘FURFÛRİYÛS’
- TDV İslâm Ansiklopedisi, ‘ÎSÂGŪCÎ’ (Abdulkuddüs Bingöl)
- Porphyry, Introduction (Isagoge) to the Categories of Aristotle, older English translation (tertullian.org)
- Wikipedia, ‘Isagoge’
- The Logic Museum, ‘Porphyry, Isagoge’
- Porphyry, Introduction, translated with a commentary by Jonathan Barnes (Oxford: Clarendon Press, 2003), CiNii catalogue record
- Stanford Encyclopedia of Philosophy, ‘Aristotle’s Logic’
- Stanford Encyclopedia of Philosophy, ‘Ammonius’
- Stanford Encyclopedia of Philosophy, ‘Greek Sources in Arabic and Islamic Philosophy’ (Cristina D’Ancona)
- Stanford Encyclopedia of Philosophy, ‘Boethius’
- Silvia Di Vincenzo, Avicenna, The Healing, Logic: Isagoge. A New Edition, English Translation and Commentary of the Kitāb al-Madḫal (De Gruyter, 2021)
- Silvia Di Vincenzo, doctoral thesis on Avicenna’s Kitāb al-Madkhal (Scuola Normale Superiore, Pisa)
- Īsāghūjī li-Athīr al-Dīn al-Abharī & al-Sullam al-munawraq (ed. al-Saqqāf, Jakarta 2013), the edition used for The Mantiqi’s text (Internet Archive)
