Domes and finials of an Ottoman mosque under a grey sky
Istanbul

سرورق / Scholars

پیش رو · وفات ca. 305 CE

فُرْفُورِيُوس

فرفوریوس

فرفوریوس صوری

نوافلاطونی فلسفی جن کے ارسطو کی مقولات کے مختصر تعارف (ایساغوجی، Eisagōgē) نے ایساغوجی کو اس کا نام اور اس کا پہلا موضوع، کلیاتِ خمسہ، دیا۔

Life

فرفوریوس فینیقیہ کے شہر صور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ملکوس یعنی “بادشاہ” تھا، جسے یونانی میں باسیلیوس (Basileus) کہا گیا۔ انھوں نے پہلے ایتھنز میں افلاطونی فلسفی لونگینوس سے پڑھا اور پھر ۲۶۳ سے ۲۶۹ تک روم میں فلوطین سے۔ ۲۶۸ میں فلوطین نے انھیں افسردگی سے صحت یاب ہونے کے لیے سسلی جانے کا مشورہ دیا، اور وہ ۲۷۰ میں فلوطین کی وفات کے بعد بھی وہیں رہے۔

عمر کے آخری حصے میں، تقریباً ۳۰۱ میں، انھوں نے فلوطین کی تحریروں کو تاسوعات (Enneads) کے طور پر مرتب کیا اور ان کے شروع میں حیاتِ فلوطین لکھی، جو دونوں کی زندگیوں کا بنیادی ماخذ ہے۔ تقریباً ساٹھ تصانیف ان سے منسوب ہیں، جن میں سے اکثر اب گم ہیں یا ٹکڑوں کی صورت میں ہیں، ان میں عیسائیوں کے خلاف ایک بڑی مناظرانہ کتاب بھی ہے۔ انھوں نے عمر کے آخر میں شادی کی اور اپنی بیوی کے لیے مارسیلا کے نام خط لکھا۔

فرفوریوس فلوطین کے مقابلے میں ارسطو اور افلاطون میں تطبیق دینے پر زیادہ آمادہ تھے۔ وہ پہلے افلاطونی تھے جنھوں نے ارسطو کی منطقی تصانیف پر باقاعدہ شروح لکھیں، اور انھی کے ذریعے مقولات نوافلاطونی مدارس میں ایک بنیادی تعارفی متن بن گئی۔ ان کی ایساغوجی بازنطینی دنیا، سریانی اور عربی دنیا اور لاطینی مغرب میں کا معیاری تعارف بن گئی۔

Uncertain or disputed

  • سالِ پیدائش و وفات: SEP میں ۲۳۴؟–۳۰۵؟، GEDSH (بروک) میں تقریباً ۲۳۲–تقریباً ۳۰۵، TDV میں وفات ۳۰۴۔
  • ایساغوجی کا زمانہ اور مقام (سسلی، تقریباً ۲۶۸–۲۷۰) قدیم شارحین امونیوس، الیاس اور داؤد کی روایت سے ماخوذ ہے، جیسا کہ جدید حوالہ جاتی کتابوں میں نقل کیا گیا ہے؛ SEP کوئی تاریخ نہیں دیتا۔

Works

  • ایساغوجی (Eisagōgē، “مدخل”)؛ عربی میں ایساغوجی یا المدخل إِيسَاغُوجِي — بر ارسطوکلیاتِ خمسہ کے بارے میں ارسطو کی مقولات کا تعارف، جو خروسائوریوس (Chrysaorius) کے نام لکھا گیا؛ قدیم شارحین اسے ان کے سسلی کے برسوں (تقریباً ۲۶۸–۲۷۰) میں رکھتے ہیں۔ اس کا ترجمہ لاطینی (ماریوس وکٹورینوس، بوئیتھیئس)، سریانی (چھٹی صدی کے اوائل کا ایک گمنام ترجمہ؛ اثناسیوس بلدی، ۶۴۵) اور عربی (ابو عثمان دمشقی؛ اس سے پہلے کے ترجمے گم ہو چکے ہیں) میں ہوا۔ یونانی متن، مرتب: اے بُسّے (A. Busse) (CAG IV.1، ۱۸۸۷)؛ انگریزی ترجمہ اور شرح: جوناتھن بارنز (Jonathan Barnes) (۲۰۰۳)۔تصنیف
  • ارسطو کی مقولات کی شروح — بر ارسطوایک مختصر شرح محفوظ ہے؛ سات کتابوں پر مشتمل ایک طویل شرح، گیدالیوس کے نام (To Gedalius)، صرف ٹکڑوں سے معلوم تھی، یہاں تک کہ بتایا گیا کہ ایک پالیمپسسٹ (مٹا کر دوبارہ لکھے گئے مخطوطے) میں اس کا خاصا بڑا حصہ موجود ہے (SEP)۔شرح
  • حیاتِ فلوطین اور تاسوعات کی تدوینتقریباً ۳۰۱ء۔طبعہ

Reception

ایساغوجی فرفوریوس کی واحد تصنیف ہے جس کا عربی ترجمہ محفوظ ہے (SEP)، اور واحد تصنیف جس کا سریانی میں ترجمہ ہوا (بروک، GEDSH)۔

TDV لکھتا ہے کہ اسلامی دنیا میں ایساغوجی ان تمام کتابوں کا مشترک نام بن گیا جو ان کی کتاب کے مقصد ہی سے لکھی گئیں۔

ابنِ سینا نے الشفاء کی المدخل میں ایساغوجی کو نئے سرے سے لکھا اور کئی نکات پر فرفوریوس کی تصحیح کی، خاص طور پر کی تعریف میں (دی وینچینزو)۔

Sources (10)

  1. Stanford Encyclopedia of Philosophy, ‘Porphyry’
  2. Gorgias Encyclopedic Dictionary of the Syriac Heritage, ‘Porphyry (ca. 232 – ca. 305)’ (Sebastian P. Brock)
  3. TDV İslâm Ansiklopedisi, ‘FURFÛRİYÛS’
  4. TDV İslâm Ansiklopedisi, ‘ÎSÂGŪCÎ’ (Abdulkuddüs Bingöl)
  5. Wikipedia, ‘Isagoge’
  6. The Logic Museum, ‘Porphyry, Isagoge’
  7. Porphyry, Introduction, translated with a commentary by Jonathan Barnes (Oxford: Clarendon Press, 2003), CiNii catalogue record
  8. Porphyry, Introduction (Isagoge) to the Categories of Aristotle, older English translation (tertullian.org)
  9. Stanford Encyclopedia of Philosophy, ‘Greek Sources in Arabic and Islamic Philosophy’ (Cristina D’Ancona)
  10. Silvia Di Vincenzo, ‘Avicenna’s reworking of Porphyry’s “common accident” in the light of Aristotle’s Categories’, Documenti e studi sulla tradizione filosofica medievale 27 (2016)