فرانسسکن مستشرق جنھوں نے ۱۶۲۵ء میں روم میں ایساغوجی کا عربی متن لاطینی ترجمے کے ساتھ چھاپا، جو اس کتاب کا پہلا مطبوعہ ایڈیشن ہے۔
حالاتِ زندگی
توماسو اوبیچینی (۱۵۸۵–۱۶۳۲ء)، جو لاطینی میں Thomas Novariensis (“نوارا کے تھامس”) کہلاتے ہیں، ایک فرانسسکن راہب اور مشرقِ وسطیٰ کی زبانوں کے ماہر تھے۔ انھوں نے فلسطین، شام اور لبنان میں فرانسسکن مشنوں میں کام کیا، بہت سے عربی متون کا لاطینی میں ترجمہ کیا، اور بعد میں روم میں سان پیترو اِن مونتوریو کی خانقاہ میں عربی پڑھائی، جو عربی مطالعات کا ایک مرکز تھی۔
ان کی کتابیں مشرقِ قریب کے لیے مشنریوں کی تربیت کے لیے تھیں، ایک کام جو رومی مجلس برائے اشاعتِ ایمان (Propaganda Fide) نے روم میں فرانسسکن خانقاہوں کے مدارس کے سپرد کیا تھا۔ اسی مقصد کے لیے انھوں نے ۱۶۲۵ء میں کا ایک دو لسانی عربی–لاطینی تعارف شائع کیا، جو دراصل ابہری کی ایساغوجی کا متن ہے، اگرچہ وہ ابہری کا نام نہیں لیتے۔ ان کی عربی–سریانی–لاطینی لغت، Thesaurus Arabico-Syro-Latinus، ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی (روم، ۱۶۳۶ء)۔
تصانیف
- Isagoge, id est, breve Introductorium Arabicum in Scientiam Logices — بر ابہریعربی متن لاطینی ترجمے کے ساتھ، روم: Stephanus Paulinus، ۱۶۲۵ء، ۴۴ صفحات۔ ایساغوجی کی پہلی طباعت۔ترجمہ
- Thesaurus Arabico-Syro-Latinusمشنریوں کے لیے موضوعاتی لغت، ان کی وفات کے بعد شائع ہوئی (روم، ۱۶۳۶ء)۔تصنیف
اثرات
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا ان کے ۱۶۲۵ء کے ایڈیشن کو ایساغوجی کی پہلی اشاعت قرار دیتا ہے، اور TDV اسلام انسائیکلوپیڈیا اسے کتاب کے تراجم میں شمار کرتا ہے۔ ایلیونورا تراوانتی (Eleonora Travanti) لکھتی ہیں کہ چونکہ اس کا عنوان اکثر غلط پڑھا جاتا ہے، اس لیے اس کتاب کو غلطی سے فرفوریوس کی ایساغوجی کی شرح قرار دیا گیا ہے۔
مآخذ (5)
- University of Wisconsin–Madison Libraries, catalogue record: Īsāghūjī = Isagoge (Rome 1625)
- Eleonora Travanti, University of Erfurt, on Obicini’s Isagoge
- Sokol Books, Obicini, Thesaurus Arabico-Syro-Latinus (1636): description
- G. C. Anawati, “Abharī, Aṯīr-al-Dīn”, Encyclopaedia Iranica (1982)
- Abdulkuddüs Bingöl, “Îsâgūcî”, TDV İslâm Ansiklopedisi 22 (2000)
