مقفل
شکل الشَّكْل
سرورقتصدیقات · قیاس · 6 میں سے 6
شکل
al-shakl
الشَّكْل
کی اس سے متعین ہوتی ہے کہ دونوں میں کہاں واقع ہے؛ شکلیں چار ہیں۔
تصویر میں
وضاحت
اوّل: میں ، کبریٰ میں ۔ ثانی: دونوں میں محمول۔ ثالث: دونوں میں موضوع۔ رابع: صغریٰ میں موضوع، کبریٰ میں محمول۔
ہر کی اپنی شرائطِ انتاج ہیں؛ شکلِ اوّل سب سے زیادہ واضح ہے۔
یوں بھی لکھا جاتا ہے: اشکال, اشکال اربعہ۔
متن میں
وَالْمُكَرَّرُ بَيْنَ مُقَدِّمَتَيِ الْقِيَاسِ يُسَمَّى: حَدًّا أَوْسَطَ، وَمَوْضُوعُ الْمَطْلُوبِ يُسَمَّى: حَدًّا أَصْغَرَ، وَمَحْمُولُهُ يُسَمَّى: حَدًّا أَكْبَرَ؛ وَالْمُقَدِّمَةُ الَّتِي فِيهَا الأَصْغَرُ تُسَمَّى: صُغْرَى، وَالَّتِي فِيهَا الأَكْبَرُ تُسَمَّى: كُبْرَى، وَهَيْئَةُ التَّأْلِيفِ تُسَمَّى: شَكْلًا.جو چیز قیاس کے دونوں مقدموں میں مکرر آئے وہ حدِّ اوسط کہلاتی ہے؛ مطلوبہ نتیجے کا موضوع حدِّ اصغر اور اس کا محمول حدِّ اکبر کہلاتا ہے۔ جس مقدمے میں حدِّ اصغر ہو وہ صغریٰ کہلاتا ہے، جس میں حدِّ اکبر ہو وہ کبریٰ، اور ان کی ترتیب کی ہیئت شکل کہلاتی ہے۔وَالأَشْكَالُ أَرْبَعَةٌ، لِأَنَّ الْحَدَّ الأَوْسَطَ إِنْ كَانَ مَحْمُولًا فِي الصُّغْرَى مَوْضُوعًا فِي الْكُبْرَى فَهُوَ: الشَّكْلُ الأَوَّلُ، وَإِنْ كَانَ مَحْمُولًا فِيهِمَا فَهُوَ: الشَّكْلُ الثَّانِي، وَإِنْ كَانَ مَوْضُوعًا فِيهِمَا فَهُوَ: الشَّكْلُ الثَّالِثُ، وَإِنْ كَانَ مَوْضُوعًا فِي الصُّغْرَى مَحْمُولًا فِي الْكُبْرَى فَهُوَ: الشَّكْلُ الرَّابِعُ.شکلیں چار ہیں، کیونکہ اگر حدِّ اوسط صغریٰ میں محمول اور کبریٰ میں موضوع ہو تو یہ شکلِ اوّل ہے؛ اگر دونوں میں محمول ہو تو شکلِ ثانی؛ اگر دونوں میں موضوع ہو تو شکلِ ثالث؛ اور اگر صغریٰ میں موضوع اور کبریٰ میں محمول ہو تو شکلِ رابع۔وَالثَّانِي يَرْتَدُّ إِلَى الأَوَّلِ بِعَكْسِ الْكُبْرَى، وَالثَّالِثُ يَرْتَدُّ إِلَيْهِ بِعَكْسِ الصُّغْرَى، وَالرَّابِعُ يَرْتَدُّ إِلَيْهِ بِعَكْسِ التَّرْتِيبِ أَوْ بِعَكْسِ الْمُقَدِّمَتَيْنِ جَمِيعًا.شکلِ ثانی کو کبریٰ کا عکس کر کے شکلِ اوّل کی طرف لوٹایا جاتا ہے، شکلِ ثالث کو صغریٰ کا عکس کر کے، اور شکلِ رابع کو مقدموں کی ترتیب الٹ کر یا دونوں کا عکس کر کے۔وَالْكَامِلُ الْبَيِّنُ الإِنْتَاجِ هُوَ الأَوَّلُ، وَالرَّابِعُ مِنْهَا بَعِيدٌ عَنِ الطَّبْعِ جِدًّا، وَالَّذِي لَهُ طَبْعٌ مُسْتَقِيمٌ وَعَقْلٌ سَلِيمٌ لَا يَحْتَاجُ إِلَى رَدِّ الثَّانِي إِلَى الأَوَّلِ؛ وَإِنَّمَا يُنْتِجُ الثَّانِي عِنْدَ اخْتِلَافِ مُقَدِّمَتَيْهِ بِالإِيجَابِ وَالسَّلْبِ.شکلِ کامل، جس کا نتیجہ واضح ہے، شکلِ اوّل ہے؛ شکلِ رابع طبعی فکر سے بہت دور ہے۔ سلیم الطبع اور سلیم العقل شخص کو شکلِ ثانی کو شکلِ اوّل کی طرف لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ شکلِ ثانی صرف اسی وقت نتیجہ دیتی ہے جب اس کے مقدمات ایجاب و سلب میں مختلف ہوں۔وَالشَّكْلُ الأَوَّلُ هُوَ الَّذِي جُعِلَ مِعْيَارَ الْعُلُومِ، فَنُورِدُهُ هُنَا لِيُجْعَلَ دُسْتُورًا، وَيُسْتَنْتَجَ مِنْهُ الْمَطَالِبُ كُلُّهَا.شکلِ اوّل ہی کو علوم کا معیار بنایا گیا ہے، اس لیے ہم یہاں اسے ایک ضابطے کے طور پر بیان کرتے ہیں جس سے ہر مطلوبہ نتیجہ نکالا جا سکے۔وَضُرُوبُهُ الْمُنْتِجَةُ أَرْبَعَةٌ: الضَّرْبُ الأَوَّلُ: كُلُّ جِسْمٍ مُؤَلَّفٌ، وَكُلُّ مُؤَلَّفٍ حَادِثٌ، فَكُلُّ جِسْمٍ حَادِثٌ. الثَّانِي: كُلُّ جِسْمٍ مُؤَلَّفٌ، وَلَا شَيْءَ مِنَ الْمُؤَلَّفِ بِقَدِيمٍ، فَلَا شَيْءَ مِنَ الْجِسْمِ بِقَدِيمٍ. الثَّالِثُ: بَعْضُ الْجِسْمِ مُؤَلَّفٌ، وَكُلُّ مُؤَلَّفٍ حَادِثٌ، فَبَعْضُ الْجِسْمِ حَادِثٌ. الرَّابِعُ: بَعْضُ الْجِسْمِ مُؤَلَّفٌ، وَلَا شَيْءَ مِنَ الْمُؤَلَّفِ بِقَدِيمٍ، فَبَعْضُ الْجِسْمِ لَيْسَ بِقَدِيمٍ.اس کی منتج ضربیں چار ہیں۔ پہلی: ہر جسم مرکب ہے، اور ہر مرکب حادث ہے، لہٰذا ہر جسم حادث ہے۔ دوسری: ہر جسم مرکب ہے، اور کوئی مرکب قدیم نہیں، لہٰذا کوئی جسم قدیم نہیں۔ تیسری: بعض جسم مرکب ہیں، اور ہر مرکب حادث ہے، لہٰذا بعض جسم حادث ہیں۔ چوتھی: بعض جسم مرکب ہیں، اور کوئی مرکب قدیم نہیں، لہٰذا بعض جسم قدیم نہیں۔متعلقہ اصطلاحات
مشق
اس اصطلاح پر 16 سوال، قیاس کی مشق میں۔
مشق پر جائیں · 16 سوالاتاپنا امتحان لیں
3 سوالات۔ 10 میں سے 6 یا زیادہ (دو ستارے) پر اگلی اصطلاح کھل جاتی ہے۔
سوال 1
قیاسِ اقترانی کی شکل کس چیز سے متعین ہوتی ہے؟
صرف اس پر موقوف ہے کہ میں اور کبریٰ میں ہے یا ۔
سوال 2
صغریٰ: بعض جسم دھات ہیں۔ کبریٰ: ہر جسم مرکب ہے۔ یہ کون سی شکل ہے؟
، “جسم”، دونوں میں ہے، اور یہ ثالث ہے۔
سوال 3
کس شکل میں حدِّ اوسط صغریٰ میں موضوع اور کبریٰ میں محمول ہوتی ہے؟
یہ رابع ہے، جو شکلِ اوّل کا الٹ ہے؛ شکلِ اوّل میں میں اور کبریٰ میں ہوتی ہے۔
تصدیقات کا اختتام۔ اگلے حصے سے پہلے جائزہ لیں۔
یہ حصہ مکمل کریں ←