سرورق / Indian path · level 2 / 25 میں سے سبق 16

مقفل

قیاس اور شکلِ اوّل

مرحلہ 3 پر واپس

Preview

A look at lesson 16 of level 2. Level 2 opens after level 1; until then you can read this lesson, but its test and the way on stay closed.

Indian path · level 2 · al-Mirqāt · 25 میں سے سبق 16

قیاس اور شکلِ اوّل

قیاس

القِيَاس

Arabic text after the print of Deoband after 1336/1917 · translation by The Mantiqi, draft

About this text

al-Mirqāt المِرْقاة

Faḍl-i Imām Khayrābādī (d. 1243 or 1244/1828–29)

Text
Arabic: al-Mirqāt, with al-Shīrkūtī's gloss al-Mirʾāt (gloss not reproduced), checked against the Delhi print of 1286/1869 (Sayyid al-Maṭābiʿ); vowel marks added by The Mantiqi (draft), Kutub Khāna Iʿzāziyya, Deoband after 1336/1917 View the scan
Translation
The Mantiqi's own; a draft.
Review
Draft, awaiting review by Ustadh Muhammad Yusuf.

متن Faḍl-i Imām Khayrābādī

فصل

وإذْ قد فَرَغْنا عن مَباحِثِ القَضايا والعُكُوسِ الّتي كانَتْ مِن مَبادِئِ الحُجَّةِ، فحَرِيٌّ بنا أنْ نَتَكَلَّمَ في مَباحِثِ الحُجَّةِ؛ فنَقُولُ: الحُجَّةُ على ثَلاثَةِ أقْسامٍ: أحَدُها القِياسُ، وثانِيها الاسْتِقْراءُ، وثالِثُها التَّمْثِيلُ؛ فلْنُبَيِّنْ هذه الثَّلاثَةَ في ثَلاثَةِ فُصُولٍ.

اور جب ہم اور عکوس کے مباحث سے فارغ ہو چکے، جو کے مبادی میں سے تھے، تو ہمارے لیے مناسب ہے کہ حجت کے مباحث پر گفتگو کریں۔ پس ہم کہتے ہیں: حجت کی تین قسمیں ہیں: ان میں سے پہلی ، دوسری ، اور تیسری تمثیل ہے؛ لہٰذا ہم ان تینوں کو تین فصلوں میں بیان کرتے ہیں۔

al-Mirqāt · ص 37

فصل في القياس

وهو قَوْلٌ مُؤَلَّفٌ مِن قَضايا يَلْزَمُ عَنْها قَوْلٌ آخَرُ بَعْدَ تَسْلِيمِ تِلْكَ القَضايا؛ فإنْ كانَ النَّتِيجَةُ أو نَقِيضُها مَذْكُورًا فيه يُسَمّى اسْتِثْنائِيًّا، كقَوْلِنا: «إنْ كانَ زَيْدٌ إنْسانًا كانَ حَيَوانًا، لكِنَّهُ إنْسانٌ» يُنْتِجُ: «فهو حَيَوانٌ»، و«إنْ كانَ زَيْدٌ حِمارًا كانَ ناهِقًا، لكِنَّهُ لَيْسَ بناهِقٍ» يُنْتِجُ: «أنّه لَيْسَ بحِمارٍ». وإنْ لم تَكُنِ النَّتِيجَةُ ونَقِيضُها مَذْكُورًا يُسَمّى اقْتِرانِيًّا، كقَوْلِكَ: «زَيْدٌ إنْسانٌ، وكُلُّ إنْسانٍ حَيَوانٌ» يُنْتِجُ: «زَيْدٌ حَيَوانٌ».

یہ [یعنی ] وہ قول ہے جو ایسے سے ہو کہ ان قضایا کو تسلیم کر لینے کے بعد ان سے ایک دوسرا قول لازم آئے۔ پس اگر یا اس کی اس میں مذکور ہو تو اسے کہا جاتا ہے، جیسے ہمارا قول: “اگر زید انسان ہے تو حیوان ہے، لیکن وہ انسان ہے”، جو یہ نتیجہ دیتا ہے: “لہٰذا وہ حیوان ہے”؛ اور “اگر زید گدھا ہے تو رینکنے والا ہے، لیکن وہ رینکنے والا نہیں”، جو یہ نتیجہ دیتا ہے: “کہ وہ گدھا نہیں”۔ اور اگر نہ نتیجہ مذکور ہو نہ اس کی نقیض، تو اسے کہا جاتا ہے، جیسے تمہارا قول: “زید انسان ہے، اور ہر انسان حیوان ہے”، جو یہ نتیجہ دیتا ہے: “زید حیوان ہے”۔

al-Mirqāt · ص 37

فصل في القياس الاقتراني

وهو قِسْمانِ: حَمْلِيٌّ وشَرْطِيٌّ. ومَوْضُوعُ النَّتِيجَةِ في القِياسِ يُسَمّى أصْغَرَ لكَوْنِهِ أقَلَّ أفْرادًا في الأغْلَبِ، ومَحْمُولُهُ يُسَمّى أكْبَرَ لكَوْنِهِ أكْثَرَ أفْرادًا غالِبًا. والقَضِيَّةُ الّتي جُعِلَتْ جُزْءَ قِياسٍ تُسَمّى مُقَدِّمَةً، والمُقَدِّمَةُ الّتي فيها الأصْغَرُ تُسَمّى صُغْرى، والّتي فيها الأكْبَرُ كُبْرى، والجُزْءُ الّذي تَكَرَّرَ بَيْنَهُما يُسَمّى حَدًّا أوْسَطَ، واقْتِرانُ الصُّغْرى بالكُبْرى يُسَمّى قَرِينَةً وضَرْبًا، والهَيْئَةُ الحاصِلَةُ مِن كَيْفِيَّةِ وَضْعِ الأوْسَطِ عِنْدَ الأصْغَرِ والأكْبَرِ تُسَمّى شَكْلًا. والأشْكالُ أرْبَعَةٌ، وَجْهُ الضَّبْطِ أنْ يُقالَ: الحَدُّ الأوْسَطُ إمّا مَحْمُولُ الصُّغْرى ومَوْضُوعُ الكُبْرى، كما في قَوْلِنا: «العالَمُ مُتَغَيِّرٌ، وكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حادِثٌ» يُنْتِجُ: «العالَمُ حادِثٌ»، فهو الشَّكْلُ الأوَّلُ؛ وإنْ كانَ مَحْمُولًا فيهما فهو الشَّكْلُ الثّانِي، كما تَقُولُ: «كُلُّ إنْسانٍ حَيَوانٌ، ولا شَيْءَ مِنَ الحَجَرِ بحَيَوانٍ»، فالنَّتِيجَةُ: «لا شَيْءَ مِنَ الإنْسانِ بحَجَرٍ»؛ وإنْ كانَ مَوْضُوعًا فيهما فهو الشَّكْلُ الثّالِثُ، نحوُ: «كُلُّ إنْسانٍ حَيَوانٌ، وبَعْضُ الإنْسانِ كاتِبٌ» يُنْتِجُ: «بَعْضُ الحَيَوانِ كاتِبٌ»؛ وإنْ كانَ مَوْضُوعًا في الصُّغْرى ومَحْمُولًا في الكُبْرى فهو الشَّكْلُ الرّابِعُ، نحوُ قَوْلِنا: «كُلُّ إنْسانٍ حَيَوانٌ، وبَعْضُ الكاتِبِ إنْسانٌ» يُنْتِجُ: «بَعْضُ الحَيَوانِ كاتِبٌ».

اس کی دو قسمیں ہیں: اور شرطی۔ میں کا اصغر کہلاتا ہے، کیونکہ اکثر اس کے افراد کم ہوتے ہیں؛ اور اس کا اکبر کہلاتا ہے، کیونکہ عموماً اس کے افراد زیادہ ہوتے ہیں۔ جس کو قیاس کا جز بنایا جائے وہ کہلاتا ہے؛ جس مقدمے میں اصغر ہو وہ کہلاتا ہے، اور جس میں اکبر ہو وہ کبریٰ؛ اور جو جز ان دونوں کے درمیان مکرر ہو وہ کہلاتا ہے۔ صغریٰ کا کبریٰ کے ساتھ اقتران قرینہ اور کہلاتا ہے؛ اور اصغر اور اکبر کے پاس اوسط کے رکھے جانے کی سے جو ہیئت حاصل ہوتی ہے وہ کہلاتی ہے۔ شکلیں چار ہیں، اور ضبط کا طریقہ یہ ہے کہ کہا جائے: حدِّ اوسط یا تو صغریٰ کا محمول اور کبریٰ کا موضوع ہوگا، جیسے ہمارے قول: “عالم متغیر ہے، اور ہر متغیر حادث ہے”، جو یہ نتیجہ دیتا ہے: “عالم حادث ہے”؛ تو یہ شکلِ اوّل ہے۔ اور اگر وہ دونوں میں محمول ہو تو یہ شکلِ ثانی ہے، جیسا کہ تم کہتے ہو: “ہر انسان حیوان ہے، اور کوئی پتھر حیوان نہیں”، تو نتیجہ ہے: “کوئی انسان پتھر نہیں”۔ اور اگر وہ دونوں میں موضوع ہو تو یہ شکلِ ثالث ہے، جیسے: “ہر انسان حیوان ہے، اور بعض انسان کاتب ہیں”، جو یہ نتیجہ دیتا ہے: “بعض حیوان کاتب ہیں”۔ اور اگر وہ صغریٰ میں موضوع اور کبریٰ میں محمول ہو تو یہ شکلِ رابع ہے، جیسے ہمارا قول: “ہر انسان حیوان ہے، اور بعض کاتب انسان ہیں”، جو یہ نتیجہ دیتا ہے: “بعض حیوان کاتب ہیں”۔

al-Mirqāt · ص 37

فصل

وأشْرَفُ الأشْكالِ مِنَ الأرْبَعَةِ الشَّكْلُ الأوَّلُ، ولذلك كانَ إنْتاجُهُ بَيِّنًا بَدِيهِيًّا يَسْبِقُ الذِّهْنُ فيه إلى النَّتِيجَةِ سَبْقًا طَبْعِيًّا مِن دُونِ حاجَةٍ إلى فِكْرٍ وتَأَمُّلٍ. ولَهُ شَرائِطُ وضُرُوبٌ؛ أمّا الشَّرائِطُ فاثْنانِ: أحَدُهُما إيجابُ الصُّغْرى، وثانِيهِما كُلِّيَّةُ الكُبْرى؛ فإنْ يُفْقَدا مَعًا أو يُفْقَدْ أحَدُهُما لا يَلْزَمِ النَّتِيجَةُ، كما يَظْهَرُ عِنْدَ التَّأَمُّلِ. وأمّا الضُّرُوبُ فأرْبَعَةٌ؛ لأنّ الاحْتِمالاتِ في كُلِّ شَكْلٍ سِتَّةَ عَشَرَ؛ لأنّ الصُّغْرى أرْبَعَةٌ والكُبْرى أيْضًا أرْبَعَةٌ، أعْنِي المُوجَبَةَ الكُلِّيَّةَ والمُوجَبَةَ الجُزْئِيَّةَ والسّالِبَةَ الكُلِّيَّةَ والجُزْئِيَّةَ، والأرْبَعَةُ في الأرْبَعَةِ سِتَّةَ عَشَرَ. وأسْقَطَ شَرائِطُ الشَّكْلِ الأوَّلِ اثْنَيْ عَشَرَ، وهو الصُّغْرى السّالِبَةُ الكُلِّيَّةُ مَعَ الكُبْرَياتِ الأرْبَعِ، والصُّغْرى السّالِبَةُ الجُزْئِيَّةُ مَعَ تِلْكَ الأرْبَعِ، وهذه ثَمانِيَةٌ، والكُبْرى المُوجَبَةُ الجُزْئِيَّةُ والسّالِبَةُ الجُزْئِيَّةُ مَعَ الصُّغْرى المُوجَبَةِ الجُزْئِيَّةِ والكُلِّيَّةِ، وهذه أرْبَعَةٌ؛ فبَقِيَ أرْبَعَةُ ضُرُوبٍ مُنْتِجَةٍ. الضَّرْبُ الأوَّلُ مُرَكَّبٌ مِن مُوجَبَةٍ كُلِّيَّةٍ صُغْرى ومُوجَبَةٍ كُلِّيَّةٍ كُبْرى، يُنْتِجُ مُوجَبَةً كُلِّيَّةً، نحوُ: «كُلُّ ج ب، وكُلُّ ب د» يُنْتِجُ: «ج د». والضَّرْبُ الثّانِي مُؤَلَّفٌ مِن مُوجَبَةٍ كُلِّيَّةٍ صُغْرى وسالِبَةٍ كُلِّيَّةٍ كُبْرى، يُنْتِجُ سالِبَةً كُلِّيَّةً، نحوُ: «كُلُّ إنْسانٍ حَيَوانٌ، ولا شَيْءَ مِنَ الحَيَوانِ بحَجَرٍ» يُنْتِجُ: «لا شَيْءَ مِنَ الإنْسانِ بحَجَرٍ». والضَّرْبُ الثّالِثُ مُلْتَئِمٌ مِن مُوجَبَةٍ جُزْئِيَّةٍ صُغْرى ومُوجَبَةٍ كُلِّيَّةٍ كُبْرى، والنَّتِيجَةُ مُوجَبَةٌ جُزْئِيَّةٌ، نحوُ: «بَعْضُ الحَيَوانِ فَرَسٌ، وكُلُّ فَرَسٍ صَهّالٌ» يُنْتِجُ: «بَعْضُ الحَيَوانِ صَهّالٌ». والضَّرْبُ الرّابِعُ مُزْدَوِجٌ مِن مُوجَبَةٍ جُزْئِيَّةٍ صُغْرى وسالِبَةٍ كُلِّيَّةٍ كُبْرى، يُنْتِجُ سالِبَةً جُزْئِيَّةً، كقَوْلِنا: «بَعْضُ الحَيَوانِ ناطِقٌ، ولا شَيْءَ مِنَ النّاطِقِ بناهِقٍ»، فالنَّتِيجَةُ: «بَعْضُ الحَيَوانِ لَيْسَ بناهِقٍ».

چاروں شکلوں میں سب سے اشرف اوّل ہے، اسی لیے اس کا دینا بیّن اور ہے؛ اس میں ذہن اور تأمل کی حاجت کے بغیر طبعی طور پر نتیجے کی طرف سبقت کرتا ہے۔ اس کی کچھ شرائط اور ہیں۔ رہیں شرائط، تو وہ دو ہیں: ایک کا ہونا، اور دوسری کبریٰ کا ہونا؛ پس اگر دونوں ایک ساتھ مفقود ہوں یا ان میں سے ایک مفقود ہو تو نتیجہ لازم نہیں آتا، جیسا کہ غور کرنے پر ظاہر ہوتا ہے۔ رہیں ضربیں، تو وہ چار ہیں؛ کیونکہ ہر شکل میں احتمالات سولہ ہیں، اس لیے کہ صغریٰ چار [قسم کا] ہے اور کبریٰ بھی چار، یعنی موجبہ کلیہ، موجبہ ، کلیہ اور [سالبہ] جزئیہ؛ اور چار کو چار میں [ضرب دینے سے] سولہ ہوتے ہیں۔ شکلِ اوّل کی شرائط نے بارہ کو ساقط کر دیا: سالبہ کلیہ صغریٰ چاروں کبریٰ کے ساتھ، اور سالبہ جزئیہ صغریٰ ان ہی چاروں کے ساتھ، اور یہ آٹھ ہوئیں؛ اور موجبہ جزئیہ اور سالبہ جزئیہ کبریٰ، موجبہ جزئیہ اور [موجبہ] کلیہ صغریٰ کے ساتھ، اور یہ چار ہوئیں؛ پس چار ضربیں باقی رہیں۔ پہلی ضرب موجبہ کلیہ صغریٰ اور موجبہ کلیہ کبریٰ سے ہے، اور موجبہ کلیہ کا نتیجہ دیتی ہے، جیسے: “ہر (ج) (ب) ہے، اور ہر (ب) (د) ہے”، جو یہ نتیجہ دیتی ہے: “[ہر] (ج) (د) ہے”۔ دوسری ضرب موجبہ کلیہ صغریٰ اور سالبہ کلیہ کبریٰ سے مؤلَّف ہے، اور سالبہ کلیہ کا نتیجہ دیتی ہے، جیسے: “ہر انسان حیوان ہے، اور کوئی حیوان پتھر نہیں”، جو یہ نتیجہ دیتی ہے: “کوئی انسان پتھر نہیں”۔ تیسری ضرب موجبہ جزئیہ صغریٰ اور موجبہ کلیہ کبریٰ سے ملی ہوئی ہے، اور نتیجہ موجبہ جزئیہ ہے، جیسے: “بعض حیوان گھوڑے ہیں، اور ہر گھوڑا صاہل ہے”، جو یہ نتیجہ دیتی ہے: “بعض حیوان صاہل ہیں”۔ چوتھی ضرب موجبہ جزئیہ صغریٰ اور سالبہ کلیہ کبریٰ سے جوڑی گئی ہے، اور سالبہ جزئیہ کا نتیجہ دیتی ہے، جیسے ہمارا قول: “بعض حیوان ناطق ہیں، اور کوئی ناطق ناہق (رینکنے والا) نہیں”، تو نتیجہ ہے: “بعض حیوان ناہق نہیں”۔

al-Mirqāt · ص 38

تنبيه

إنْتاجُ المُوجَبَةِ الكُلِّيَّةِ مِن خَواصِّ الشَّكْلِ الأوَّلِ، كما أنّ الإنْتاجَ لِلنَّتائِجِ الأرْبَعَةِ أيْضًا مِن خَصائِصِهِ، والصُّغْرى المُمْكِنَةُ غَيْرُ مُنْتِجَةٍ في هذا الشَّكْلِ فَقَطْ. ووَضَحَ بما ذَكَرْنا أنّه لا بُدَّ في هذا الشَّكْلِ كَيْفًا إيجابُ الصُّغْرى، وكَمًّا كُلِّيَّةُ الكُبْرى، وجِهَةً فِعْلِيَّةُ الصُّغْرى.

کا دینا اوّل کے میں سے ہے، جیسے چاروں [قسم کے] نتائج دینا بھی اس کی خصوصیات میں سے ہے؛ اور ممکنہ صرف اسی شکل میں غیر ہے۔ اور ہمارے ذکر کردہ [بیان] سے واضح ہو گیا کہ اس شکل میں کے لحاظ سے صغریٰ کا موجبہ ہونا، کے لحاظ سے کبریٰ کا کلیہ ہونا، اور جہت کے لحاظ سے صغریٰ کا فعلیہ ہونا ضروری ہے۔

al-Mirqāt · ص 40

اپنا امتحان لیں

شرح میں جو سمجھایا گیا ہے اس پر 3 سوالات۔ 10 میں سے 6 یا زیادہ (دو ستارے) پر اگلا سبق کھل جاتا ہے۔

  1. سوال 1

    مرقات میں شکلِ اوّل کو چاروں شکلوں میں سب سے اشرف کیوں کہا گیا ہے؟

  2. سوال 2

    شکلِ اوّل کے منتج ہونے کے لیے کون سی دو شرطیں ضروری ہیں؟

  3. سوال 3

    “بعض حیوان ناطق ہیں، اور کوئی ناطق رینکنے والا نہیں۔” شکلِ اوّل کا یہ قیاس کیا نتیجہ دیتا ہے؟

اگلا سبق: شکلِ ثانی، ثالث اور رابع

جاری رکھیں ←