فَصْلٌ فِي البُرْهانِ وَما يَتَعَلَّقُ بِهِ
اعْلَمْ أَنَّ البُرْهانَ قِياسٌ مُؤَلَّفٌ مِنَ اليَقِينِيّاتِ، بَدِيهِيَّةً كانَتْ أَوْ نَظَرِيَّةً مُنْتَهِيَةً إِلَيْها، وَلَيْسَ الأَمْرُ كَما زُعِمَ أَنَّ البُرْهانَ إِنَّما يَتَأَلَّفُ مِنَ البَدِيهِيّاتِ فَحَسْبُ. ثُمَّ البَدِيهِيّاتُ سِتَّةٌ: أَحَدُها الأَوَّلِيّاتُ، وَهِيَ قَضايا يَجْزِمُ العَقْلُ فِيها بِمُجَرَّدِ الالْتِفاتِ وَالتَّصَوُّرِ، وَلا يَحْتاجُ إِلَى واسِطَةٍ، كَقَوْلِكَ: «الكُلُّ أَعْظَمُ مِنَ الجُزْءِ». وَثانِيها الفِطْرِيّاتُ، وَهِيَ ما يُفْتَقَرُ إِلَى واسِطَةٍ غَيْرِ غائِبَةٍ عَنِ الذِّهْنِ أَصْلًا، وَيُقالُ لِهٰذِهِ القَضايا: قَضايا قِياساتُها مَعَها، نَحْوُ: «الأَرْبَعَةُ زَوْجٌ»؛ فَإِنَّ مَنْ تَصَوَّرَ مَفْهُومَ الأَرْبَعَةِ، وَتَصَوَّرَ مَفْهُومَ الزَّوْجِ بِأَنَّهُ هُوَ الَّذِي يَنْقَسِمُ بِمُتَساوِيَيْنِ، حَكَمَ بَداهَةً بِأَنَّ الأَرْبَعَةَ زَوْجٌ؛ وَنَحْوُ قَوْلِنا: «الواحِدُ نِصْفُ الاثْنَيْنِ»؛ فَإِنَّ العَقْلَ يَحْكُمُ بِهِ بَعْدَ أَنْ يُلاحِظَ مَفْهُومَ نِصْفِ الاثْنَيْنِ وَالواحِدِ. وَثالِثُها الحَدْسِيّاتُ، وَهُوَ ظُهُورُ المَبادِي دَفْعَةً واحِدَةً مِنْ دُونِ أَنْ يَكُونَ هُناكَ حَرَكَةٌ فِكْرِيَّةٌ. وَالفَرْقُ بَيْنَ الحَدْسِ وَالفِكْرِ أَنَّهُ لا بُدَّ فِي الفِكْرِ مِنَ الحَرَكَتَيْنِ لِلنَّفْسِ، بِخِلافِ الحَدْسِ؛ فَإِنَّ الذِّهْنَ بَعْدَ ما حَصَلَ لَهُ المَطْلُوبُ بِوَجْهٍ ما يَتَحَرَّكُ فِي المَعانِي المَخْزُونَةِ وَالمَبادِي المَكْنُونَةِ طالِبًا لِما يَكُونُ لَها تَناسُبٌ بِالمَطْلُوبِ، حَتَّى يَجِدَ مَعْلُوماتٍ مُناسِبَةً لَهُ، فَهٰهُنا تَمَّ الحَرَكَةُ الأُولَى، ثُمَّ يَرْجِعُ القَهْقَرَى وَيَتَحَرَّكُ ثانِيًا مُرَتِّبًا لِتِلْكَ المَعْلُوماتِ المَخْزُونَةِ الَّتِي وَجَدَها تَرْتِيبًا تَدْرِيجِيًّا، حَتَّى وَصَلَ إِلَى المَطْلُوبِ، وَتَمَّ الحَرَكَةُ الثّانِيَةُ، فَمَجْمُوعُ هاتَيْنِ الحَرَكَتَيْنِ يُسَمَّى بِالفِكْرِ. مَثَلًا: إِذا كُنْتَ تَصَوَّرْتَ الإِنْسانَ بِوَجْهٍ مِنَ الوُجُوهِ، كَالكاتِبِ وَالضّاحِكِ مَثَلًا، ثُمَّ صِرْتَ طالِبًا لِماهِيَّةِ الإِنْسانِ، فَحَرَّكْتَ ذِهْنَكَ نَحْوَ المَعانِي الَّتِي عِنْدَكَ مَخْزُونَةً، فَوَجَدْتَ الحَيَوانَ وَالنّاطِقَ مُناسِبًا لِمَطْلُوبِكَ، فَتَمَّ الحَرَكَةُ الأُولَى، وَمَبْدَؤُهُ المَطْلُوبُ المَعْلُومُ مِنْ وَجْهٍ، وَمُنْتَهاهُ الحَيَوانُ وَالنّاطِقُ. ثُمَّ تُرَتِّبُ الحَيَوانَ وَالنّاطِقَ بِأَنْ تُقَدِّمَ الحَيَوانَ الَّذِي هُوَ الجِنْسُ عَلَى النّاطِقِ، هُوَ الفَصْلُ، وَقُلْتَ: الحَيَوانُ النّاطِقُ، وَهٰهُنا انْقَطَعَ الحَرَكَةُ الثّانِيَةُ وَحَصَلَ المَطْلُوبُ. وَأَمّا الحَدْسُ فَفِيهِ انْتِقالُ الذِّهْنِ مِنَ المَطْلُوبِ إِلَى المَبادِي دَفْعَةً، وَمِنْها إِلَى المَطْلُوبِ كَذٰلِكَ، وَأَكْثَرُ ما يَكُونُ الحَدْسُ عَقِيبَ الشَّوْقِ وَالتَّعَبِ، وَقَدْ تَكُونُ بِدُونِهِما. وَالنّاسُ مُخْتَلِفُونَ فِي الحَدْسِ: فَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ قَوِيُّ الحَدْسِ كَثِيرُهُ، يَحْصُلُ لَهُ مِنَ المَطالِبِ أَكْثَرُها بِالحَدْسِ، كَالمُؤَيَّدِ بِالقُوَّةِ القُدْسِيَّةِ كَالحُكَماءِ وَالأَوْلِياءِ وَالأَنْبِياءِ؛ وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ قَلِيلُ الحَدْسِ ضَعِيفُهُ؛ وَمِنْهُمْ مَنْ لا حَدْسَ لَهُ، كَالمُنْتَهِي فِي البَلادَةِ. وَمِنْ هٰذا يُعْلَمُ أَنَّ البَداهَةَ وَالنَّظَرِيَّةَ مُخْتَلِفانِ بِالأَشْخاصِ وَالأَوْقاتِ؛ فَرُبَّ حَدْسِيٍّ عِنْدَ فاقِدِ القُوَّةِ القُدْسِيَّةِ يَكُونُ نَظَرِيًّا، وَبَدِيهِيًّا عِنْدَ صاحِبِها. وَرابِعُها المُشاهَداتُ، وَهِيَ القَضايا يُحْكَمُ فِيها بِواسِطَةِ المُشاهَدَةِ وَالإِحْساسِ، وَهِيَ تَنْقَسِمُ إِلَى قِسْمَيْنِ: الأَوَّلُ ما شُوهِدَ بِإِحْدَى الحَواسِّ الظّاهِرَةِ، وَهِيَ خَمْسٌ: الباصِرَةُ وَالسّامِعَةُ وَالشّامَّةُ وَالذّائِقَةُ وَاللّامِسَةُ، وَيُسَمَّى هٰذا القِسْمُ بِالحِسِّيّاتِ؛ وَالثّانِي ما أُدْرِكَ بِالمُدْرِكاتِ مِنَ الحَواسِّ الباطِنَةِ الَّتِي هِيَ أَيْضًا خَمْسٌ: الحِسُّ المُشْتَرَكُ المُدْرِكُ لِلصُّوَرِ، وَالخَيالُ الَّتِي هِيَ خِزانَةٌ لَهُ، وَالوَهْمُ المُدْرِكُ لِلمَعانِي الشَّخْصِيَّةِ وَالجُزْئِيَّةِ، وَالحافِظَةُ الَّتِي هِيَ خِزانَةٌ لِلمَعانِي الجُزْئِيَّةِ، وَالمُتَصَرِّفَةُ الَّتِي تَتَصَرَّفُ فِي الصُّوَرِ وَالمَعانِي بِالتَّحْلِيلِ وَالتَّرْكِيبِ، وَيُسَمَّى هٰذا القِسْمُ بِالوِجْدانِيّاتِ؛ وَمُدْرَكاتُ العَقْلِ الصِّرْفِ، أَعْنِي الكُلِّيّاتِ، غَيْرُ مُنْدَرِجٍ فِي هٰذا القِسْمِ. مِثالُ القِسْمِ الثّانِي: كَما حَكَمْنا بِأَنَّ لَنا جُوعًا أَوْ عَطَشًا. وَخامِسُها التَّجْرِبِيّاتُ، وَهِيَ قَضايا يَحْكُمُ العَقْلُ بِها بِواسِطَةِ تَكْرارِ المُشاهَدَةِ وَعَدَمِ التَّخَلُّفِ حُكْمًا كُلِّيًّا، كَالحُكْمِ بِأَنَّ شُرْبَ السَّقَمُونْيا مُسْهِلٌ لِلصَّفْراءِ. وَسادِسُها المُتَواتِراتُ، وَهِيَ قَضايا يُحْكَمُ بِها بِواسِطَةِ إِخْبارِ جَماعَةٍ يَسْتَحِيلُ العَقْلُ تَواطُؤَهُمْ عَلَى الكَذِبِ. وَاخْتَلَفُوا فِي أَقَلِّ عَدَدِ هٰذِهِ الجَماعَةِ: قِيلَ: إِنَّ أَقَلَّهُ أَرْبَعَةٌ، وَقِيلَ: عَشَرَةٌ، وَقِيلَ: أَرْبَعُونَ؛ وَالأَشْبَهُ أَنَّ هٰذا العَدَدَ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلافِ حالِ الَّذِينَ أَخْبَرُوهُ وَاخْتِلافِ الواقِعَةِ، فَلا يَتَعَيَّنُ عَدَدٌ، وَالضّابِطَةُ أَنْ يَبْلُغَ إِلَى حَدٍّ يُفِيدُ اليَقِينَ. فَهٰذِهِ السِّتَّةُ هِيَ مَبادِي البَراهِينِ، وَمَقاطِعُ الدَّلِيلِ، وَمُنْتَهَى اليَقِينِ.
جان لو کہ وہ ہے جو سے ہو، خواہ وہ ہوں یا ایسے جو ان [بدیہیات] پر منتہی ہوں؛ اور معاملہ ایسا نہیں جیسا کہ گمان کیا گیا ہے کہ برہان صرف بدیہیات ہی سے مؤلَّف ہوتا ہے۔ پھر بدیہیات چھ ہیں۔ ان میں سے پہلی ہیں: یہ وہ ہیں جن میں عقل محض التفات اور سے جزم کر لیتی ہے اور کسی واسطے کی محتاج نہیں ہوتی، جیسے تمہارا قول: “کل جز سے بڑا ہے”۔ دوسری ہیں: یہ وہ ہیں جو ایسے واسطے کی محتاج ہوں جو ذہن سے کبھی غائب نہ ہو؛ اور ان قضایا کو “قضایا قیاساتہا معہا” (وہ قضایا جن کی دلیلیں ان کے ساتھ ہوتی ہیں) کہا جاتا ہے، جیسے: “چار جفت ہے”؛ کیونکہ جو شخص چار کے مفہوم کا تصور کرے، اور جفت کے مفہوم کا اس طرح تصور کرے کہ وہ وہ ہے جو دو برابر [حصوں] میں تقسیم ہو، وہ بداہتاً حکم لگاتا ہے کہ چار جفت ہے؛ اور جیسے ہمارا قول: “ایک دو کا آدھا ہے”؛ کیونکہ عقل دو کے آدھے اور ایک کے مفہوم کو ملاحظہ کرنے کے بعد اس کا حکم لگاتی ہے۔ تیسری ہیں۔ اور [حدس] مبادی کا یکبارگی ظاہر ہو جانا ہے، بغیر اس کے کہ وہاں کوئی فکری حرکت ہو۔ حدس اور میں فرق یہ ہے کہ فکر میں نفس کی دو حرکتیں ضروری ہیں، بخلاف حدس کے؛ کیونکہ ذہن، اس کے بعد کہ مطلوب اسے کسی وجہ سے حاصل ہو، ذخیرہ شدہ معانی اور پوشیدہ مبادی میں حرکت کرتا ہے، ان چیزوں کی تلاش میں جن کی مطلوب سے مناسبت ہو، یہاں تک کہ اس کے مناسب معلومات پا لیتا ہے؛ یہاں پہلی حرکت پوری ہوئی۔ پھر وہ الٹے پاؤں لوٹتا ہے اور دوبارہ حرکت کرتا ہے، ان ذخیرہ شدہ معلومات کو، جو اس نے پائیں، بتدریج ترتیب دیتے ہوئے، یہاں تک کہ مطلوب تک پہنچ جاتا ہے، اور دوسری حرکت پوری ہو جاتی ہے؛ پس ان دونوں حرکتوں کا مجموعہ فکر کہلاتا ہے۔ مثلاً: جب تم نے انسان کا کسی وجہ سے تصور کیا ہو، جیسے مثلاً کاتب اور ضاحک [ہونے کی وجہ سے]، پھر تم انسان کی کے طالب ہوئے، اور اپنے ذہن کو ان معانی کی طرف حرکت دی جو تمہارے پاس ذخیرہ ہیں، تو تم نے حیوان اور ناطق کو اپنے مطلوب کے مناسب پایا؛ پس پہلی حرکت پوری ہوئی، جس کا مبدأ وہ مطلوب ہے جو ایک وجہ سے معلوم ہے، اور جس کا منتہیٰ حیوان اور ناطق ہیں۔ پھر تم حیوان اور ناطق کو ترتیب دیتے ہو، اس طرح کہ حیوان کو، جو ہے، ناطق پر، جو ہے، کرتے ہو اور کہتے ہو: “حیوانِ ناطق”؛ یہاں دوسری حرکت ختم ہوئی اور مطلوب حاصل ہو گیا۔ رہا حدس، تو اس میں ذہن مطلوب سے مبادی کی طرف یکبارگی منتقل ہوتا ہے، اور ان سے مطلوب کی طرف بھی اسی طرح۔ حدس اکثر شوق اور مشقت کے بعد ہوتا ہے، اور کبھی ان کے بغیر بھی ہوتا ہے۔ لوگ حدس میں مختلف ہیں: ان میں سے کوئی قوی الحدس اور کثیر الحدس ہوتا ہے، جسے اکثر مطالب حدس سے حاصل ہوتے ہیں، جیسے وہ جو قوتِ قدسیہ سے مؤیَّد ہو، مثلاً حکما، اولیا اور انبیا؛ ان میں سے کوئی قلیل الحدس اور ضعیف الحدس ہوتا ہے؛ اور ان میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جسے حدس بالکل حاصل نہیں، جیسے وہ جو کند ذہنی کی انتہا کو پہنچا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بداہت اور نظریت اشخاص اور اوقات کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں؛ پس بہت سے حدسی [قضایا] قوتِ قدسیہ سے محروم شخص کے نزدیک نظری ہوتے ہیں اور صاحبِ قوتِ قدسیہ کے نزدیک بدیہی۔ چوتھی ہیں: یہ وہ قضایا ہیں جن میں مشاہدے اور احساس کے واسطے سے حکم لگایا جاتا ہے؛ اور ان کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی وہ جس کا مشاہدہ حواسِ ظاہرہ میں سے کسی ایک سے کیا گیا ہو، اور وہ پانچ ہیں: باصرہ (دیکھنے کی قوت)، سامعہ (سننے کی)، شامّہ (سونگھنے کی)، ذائقہ (چکھنے کی) اور لامسہ (چھونے کی)؛ اور اس قسم کو حسیات کہا جاتا ہے۔ دوسری وہ جس کا ادراک حواسِ باطنہ کی مدرِکہ قوتوں سے ہوا ہو، جو بھی پانچ ہیں: حسِ مشترک، جو صورتوں کا ادراک کرتی ہے؛ خیال، جو اس کا خزانہ ہے؛ وہم، جو شخصی اور معانی کا ادراک کرتا ہے؛ حافظہ، جو جزئی معانی کا خزانہ ہے؛ اور متصرّفہ، جو صورتوں اور معانی میں تحلیل و ترکیب کے ذریعے تصرف کرتی ہے؛ اور اس قسم کو وجدانیات کہا جاتا ہے۔ اور عقلِ محض کے مدرَکات، یعنی ، اس قسم میں داخل نہیں۔ دوسری قسم کی مثال: جیسے ہم یہ حکم لگائیں کہ ہمیں بھوک یا پیاس ہے۔ پانچویں تجربیات () ہیں: یہ وہ قضایا ہیں جن پر عقل مشاہدے کی تکرار اور [اثر کے] عدمِ تخلف کے واسطے سے کلی حکم لگاتی ہے، جیسے یہ حکم کہ سقمونیا کا پینا صفرا کو خارج کرتا ہے۔ چھٹی ہیں: یہ وہ قضایا ہیں جن کا حکم ایک ایسی جماعت کی خبر کے واسطے سے لگایا جاتا ہے جن کا جھوٹ پر متفق ہو جانا عقل محال سمجھتی ہے۔ اس جماعت کی کم سے کم تعداد میں اختلاف ہے: کہا گیا ہے کہ کم سے کم چار ہے، اور کہا گیا ہے دس، اور کہا گیا ہے چالیس؛ اور زیادہ قرینِ قیاس یہ ہے کہ یہ تعداد خبر دینے والوں کے حال کے اختلاف اور واقعے کے اختلاف سے مختلف ہوتی ہے، لہٰذا کوئی تعداد متعین نہیں؛ اور ضابطہ یہ ہے کہ [تعداد] اس تک پہنچ جائے جو یقین کا فائدہ دے۔ پس یہی چھ برہانوں کے مبادی ہیں، یہیں دلیل ٹھہرتی ہے اور یہیں یقین اپنی انتہا کو پہنچتا ہے۔
al-Mirqāt · ص 46