مقفل
شرطیہ متصلہ المُتَّصِلَة
سرورقتصدیقات · قضایا · 10 میں سے 7
شرطیہ متصلہ
al-muttaṣila
المُتَّصِلَة
وہ ہے جس میں یہ حکم لگایا جائے کہ ایک دوسرے قضیے کے ہوتے ہوئے ثابت ہے، یا ثابت نہیں۔
وضاحت
“اگر سورج طلوع ہو چکا ہے تو دن موجود ہے۔”
یوں بھی لکھا جاتا ہے: متصلہ, قضیہ متصلہ۔
متن میں
وَهِيَ إِمَّا حَمْلِيَّةٌ كَقَوْلِنَا: زَيْدٌ كَاتِبٌ، وَإِمَّا شَرْطِيَّةٌ مُتَّصِلَةٌ كَقَوْلِنَا: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ، وَإِمَّا شَرْطِيَّةٌ مُنْفَصِلَةٌ كَقَوْلِنَا: الْعَدَدُ إِمَّا أَنْ يَكُونَ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا.وہ یا حملیہ ہوتا ہے، جیسے “زید کاتب ہے”؛ یا شرطیہ متصلہ، جیسے “اگر سورج طلوع ہو چکا ہے تو دن موجود ہے”؛ یا شرطیہ منفصلہ، جیسے “عدد یا جفت ہے یا طاق۔”وَالْمُتَّصِلَةُ إِمَّا لُزُومِيَّةٌ كَقَوْلِنَا: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ، وَإِمَّا اتِّفَاقِيَّةٌ كَقَوْلِنَا: إِنْ كَانَ الإِنْسَانُ نَاطِقًا فَالْحِمَارُ نَاهِقٌ؛متصلہ یا لزومیہ ہوتا ہے، جیسے “اگر سورج طلوع ہو چکا ہے تو دن موجود ہے”، یا اتفاقیہ، جیسے “اگر انسان ناطق ہے تو گدھا رینکتا ہے۔”وَالْقِيَاسُ الِاقْتِرَانِيُّ يَتَرَكَّبُ إِمَّا مِنَ الْحَمْلِيَّتَيْنِ كَمَا مَرَّ؛ وَإِمَّا مِنَ الْمُتَّصِلَتَيْنِ كَقَوْلِنَا: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ، وَإِنْ كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا فَالأَرْضُ مُضِيئَةٌ، يُنْتِجُ: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالأَرْضُ مُضِيئَةٌ؛قیاسِ اقترانی یا دو حملیوں سے مرکب ہوتا ہے، جیسا کہ اوپر گزرا؛ یا دو متصلوں سے، جیسے “اگر سورج طلوع ہو چکا ہے تو دن موجود ہے؛ اور اگر دن موجود ہے تو زمین روشن ہے”، جس کا نتیجہ ہے “اگر سورج طلوع ہو چکا ہے تو زمین روشن ہے”؛أَوْ مِنْ حَمْلِيَّةٍ وَمُتَّصِلَةٍ، كَقَوْلِنَا: كُلَّمَا كَانَ هَذَا إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ، وَكُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ، يُنْتِجُ: كُلَّمَا كَانَ هَذَا إِنْسَانًا فَهُوَ جِسْمٌ؛یا ایک حملیہ اور ایک متصلہ سے، جیسے “جب بھی یہ انسان ہو تو حیوان ہے؛ اور ہر حیوان جسم ہے”، جس کا نتیجہ ہے “جب بھی یہ انسان ہو تو جسم ہے”؛أَوْ مِنْ مُتَّصِلَةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ، كَقَوْلِنَا: كُلَّمَا كَانَ هَذَا إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ، وَكُلُّ حَيَوَانٍ فَهُوَ إِمَّا أَبْيَضُ أَوْ أَسْوَدُ، يُنْتِجُ: كُلَّمَا كَانَ هَذَا إِنْسَانًا فَهُوَ إِمَّا أَبْيَضُ أَوْ أَسْوَدُ.یا ایک متصلہ اور ایک منفصلہ سے، جیسے “جب بھی یہ انسان ہو تو حیوان ہے؛ اور ہر حیوان یا سفید ہے یا سیاہ”، جس کا نتیجہ ہے “جب بھی یہ انسان ہو تو یا سفید ہے یا سیاہ۔”وَأَمَّا الْقِيَاسُ الِاسْتِثْنَائِيُّ فَالشَّرْطِيَّةُ الْمَوْضُوعَةُ فِيهِ إِنْ كَانَتْ مُتَّصِلَةً، فَاسْتِثْنَاءُ عَيْنِ الْمُقَدَّمِ يُنْتِجُ عَيْنَ التَّالِي، كَقَوْلِنَا: إِنْ كَانَ هَذَا إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ، لَكِنَّهُ إِنْسَانٌ، فَهُوَ حَيَوَانٌ.رہا قیاسِ استثنائی: اگر اس میں شرطیہ متصلہ ہو تو مقدم کا اثبات تالی کا نتیجہ دیتا ہے، جیسے “اگر یہ انسان ہے تو حیوان ہے؛ لیکن یہ انسان ہے، لہٰذا یہ حیوان ہے۔”وَاسْتِثْنَاءُ نَقِيضِ التَّالِي يُنْتِجُ نَقِيضَ الْمُقَدَّمِ، كَقَوْلِنَا: إِنْ كَانَ هَذَا إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ، لَكِنَّهُ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ، فَلَا يَكُونُ إِنْسَانًا؛اور تالی کی نقیض کا اثبات مقدم کی نقیض کا نتیجہ دیتا ہے، جیسے “اگر یہ انسان ہے تو حیوان ہے؛ لیکن یہ حیوان نہیں، لہٰذا یہ انسان نہیں۔”مثالیں
- إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌاگر سورج طلوع ہو چکا ہے تو دن موجود ہے
متعلقہ اصطلاحات
مشق
قضایا پر خود کو آزمائیں۔
مشق پر جائیں · 8 سوالاتاپنا امتحان لیں
3 سوالات۔ 10 میں سے 6 یا زیادہ (دو ستارے) پر اگلی اصطلاح کھل جاتی ہے۔
سوال 1
شرطیہ متصلہ میں کیا حکم لگایا جاتا ہے؟
کو سے جوڑتا ہے: ایک کے ہوتے ہوئے دوسرا ثابت ہے (یا نہیں)، جیسے “اگر سورج طلوع ہو چکا ہے تو دن موجود ہے”۔
سوال 2
ان میں سے کون سا شرطیہ متصلہ ہے؟
اس میں یہ حکم ہے کہ “یہ دھات ہے” کے ہوتے ہوئے “یہ جسم ہے” ثابت ہے۔ “ہر دھات جسم ہے” ہے، اور “یا … یا” والا جملہ ہے۔
سوال 3
“اگر سورج طلوع ہو چکا ہے تو دن موجود ہے” متصلہ لزومیہ ہے۔ “اگر انسان ناطق ہے تو گدھا رینکتا ہے” کس قسم کا ہے؟
إِنْ كَانَ الإِنْسَانُ نَاطِقًا فَالحِمَارُ نَاهِقٌ
گدھے کا رینکنا انسان کے ناطق ہونے سے لازم نہیں آتا؛ دونوں محض اتفاقاً ایک ساتھ سچے ہیں، اسی لیے ابہری اس کو اتفاقیہ کہتے ہیں۔
اگلا: شرطیہ منفصلہ المُنْفَصِلَة
جاری رکھیں ←