سرورق / Ottoman path · level 2 / 17 میں سے سبق 2

مقفل

مفرد اور مرکب، کلی اور جزئی

مرحلہ 2 پر واپس

Preview

A look at lesson 2 of level 2. Level 2 opens after level 1; until then you can read this lesson, but its test and the way on stay closed.

Ottoman path · level 2 · Sharḥ Īsāghūjī · 17 میں سے سبق 2

مفرد اور مرکب، کلی اور جزئی

الفاظ اور دلالت · متن 6–7

الأَلْفَاظ وَالدَّلَالَة

Arabic text after the print of Beirut · translation by The Mantiqi, draft

About this text

Sharḥ Īsāghūjī شَرْحُ إِيساغُوجِي

Ḥusām al-Dīn al-Kātī (d. ca. 760/1359)

Text
Arabic: Sharḥ matn al-Īsāghūjī fī al-manṭiq, with notes by Qāsim Naʿīm al-Ḥanafī (not reproduced), Dār al-Kutub al-ʿIlmiyya, Beirut View the scan
Translation
The Mantiqi's own; a draft.
Review
Draft, awaiting review by Ustadh Muhammad Yusuf.

متن

ثُمَّ اللَّفْظُ إِمَّا مُفْرَدٌ: وَهُوَ الَّذِي لَا يُرَادُ بِالْجُزْءِ مِنْهُ دَلَالَةٌ عَلَى جُزْءِ مَعْنَاهُ كَالإِنْسَانِ، وَإِمَّا مُؤَلَّفٌ: وَهُوَ الَّذِي لَا يَكُونُ كَذَلِكَ كَرَامِي الْحِجَارَةِ.

پھر یا ہوتا ہے، یعنی وہ جس کے جز سے اس کے معنی کے جز پر مقصود نہ ہو، جیسے “انسان”؛ یا ، یعنی وہ جو ایسا نہ ہو، جیسے “پتھر پھینکنے والا”۔

جملہ 6

وَالْمُفْرَدُ إِمَّا كُلِّيٌّ: وَهُوَ الَّذِي لَا يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُّرِ مَفْهُومِهِ وُقُوعَ الشَّرِكَةِ فِيهِ كَالإِنْسَانِ، وَإِمَّا جُزْئِيٌّ: وَهُوَ الَّذِي يَمْنَعُ نَفْسُ تَصَوُّرِ مَفْهُومِهِ ذَلِكَ كَزَيْدٍ عَلَمًا.

یا ہوتا ہے، یعنی وہ جس کا معنی محض کیے جانے سے بہت سوں کے اس میں شریک ہونے سے مانع نہ ہو، جیسے “انسان”؛ یا ، یعنی وہ جس کا معنی محض تصور کیے جانے سے اس سے مانع ہو، جیسے “زید” جب وہ ہو۔

جملہ 7

شرح Ḥusām al-Dīn al-Kātī

قالَ: ثُمَّ اللفظُ إما مُفردٌ: وهو الذي لا يُرَادُ بالجزءِ منه دلالةٌ على جزءِ معناه كالإنسانِ، وإما مُؤلفٌ وهو الذي لا يكونُ كذلك كرامي الحجارةِ

أَقُولُ: لما فرغَ من بيان الدِّلالاتِ الثلاث شرعَ في تقسيم اللفظ فنقول: اللفظُ ينقسمُ إلى قسمين مفردٍ، ومؤلفٍ لأنه إما أن لا يرادَ بالجزء منه أي من اللفظ الدلالةُ على جزء معناه كالإنسان، فإنه لفظٌ لا يُرَادُ بالجزء منه دلالةٌ على جزء معناه، أو يُرادَ ذلك كقولك رامي الحجارة فإنه لفظ يدلُّ جزؤهُ على جزء معناه لأن الرامي يدلُّ على ذاتِ مَنْ له الرميُ، والحجارةَ يدلُّ على جسمٍ معينٍ، فإن كان الأول فهو مفردٌ، وإن كان الثاني فهو مؤلفٌ، وقولهُ لا يراد بالجزء منه دلالةٌ على جزء معناه صادقٌ على أربعةِ أقسامٍ: الأول أن لا يكونَ له جزءٌ أصلاً نحو قِ علماً، والثاني أن يكونَ له جزءٌ ولا معنى له نحو زيدٌ علماً، والثالث أن يكون له جزءٌ ذو معنى لكن لا يدلُّ عليه نحو عبدالله علماً لأن معناه شخصٌ مُعيَّنٌ، والرابع أن يكونَ له جزءٌ ذو معنى دالٌّ عليه لكنْ لا يكون دلالتُهُ مراداً نحو الحيوان الناطق علما، لأن معناه حينئذٍ الماهيةُ الإنسانيةُ مع التشخُّص.

تینوں دلالتوں کے بیان سے فارغ ہو کر [مصنف] نے کی تقسیم شروع کی۔ پس ہم کہتے ہیں: لفظ دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے، اور (مؤلَّف)؛ کیونکہ یا تو اس کے، یعنی لفظ کے، جز سے اس کے معنی کے جز پر مقصود نہیں ہوتی، جیسے “انسان”، کہ یہ ایسا لفظ ہے جس کے جز سے اس کے معنی کے جز پر دلالت مقصود نہیں؛ یا یہ مقصود ہوتی ہے، جیسے تمہارا قول “پتھر پھینکنے والا” (رامی الحجارۃ)، کہ یہ ایسا لفظ ہے جس کا جز اس کے معنی کے جز پر دلالت کرتا ہے، کیونکہ “رامی” (پھینکنے والا) اس ذات پر دلالت کرتا ہے جس سے پھینکنا صادر ہو، اور “حجارۃ” (پتھر) ایک معین جسم پر دلالت کرتا ہے۔ اگر پہلی صورت ہو تو وہ مفرد ہے، اور اگر دوسری ہو تو مرکب۔ ان کا قول “جس کے جز سے اس کے معنی کے جز پر دلالت مقصود نہ ہو” چار قسموں پر صادق آتا ہے۔ پہلی یہ کہ اس کا سرے سے کوئی جز ہی نہ ہو، جیسے “قِ” (حفاظت کرو!) جب ہو۔ دوسری یہ کہ اس کا جز ہو مگر اس جز کا کوئی معنی نہ ہو، جیسے “زید” جب علَم ہو۔ تیسری یہ کہ اس کا ایسا جز ہو جس کا معنی ہو مگر وہ اس پر دلالت نہ کرے، جیسے “عبد اللہ” (اللہ کا بندہ) جب علَم ہو، کیونکہ اس کا معنی ایک معین شخص ہے۔ چوتھی یہ کہ اس کا ایسا جز ہو جس کا معنی ہو اور وہ اس پر دلالت بھی کرے، مگر اس کی دلالت مقصود نہ ہو، جیسے “حیوانِ ناطق” جب علَم ہو، کیونکہ اس وقت اس کا معنی تشخص کے ساتھ انسانیہ ہے۔

Sharḥ Īsāghūjī · ص 16

قالَ: والمفردُ إما كليٌّ: وهو الذي لا يمنعُ نفسُ تصورِ مفهومِه عن وقوع الشِّركة فيه كالإنسان، وإما جزئيٌّ: وهو الذي يمنعُ نفسُ تصور مفهومه عن ذلك كزيدٍ

أَقُولُ: المفردُ ينقسمُ إلى كليِّ وجزئيِّ، لأنَّهُ إما أن يكونَ نفسُ تصوُّرِ مفهومه أي من حيثُ إنَّهُ مُتصوَّرٌ مانعاً من وقوع الشركة فيه أي من الاشتراك بين كثيرين، أو لا يكونَ، فإن منعَ نفسُ تصور مفهومه عن اشتراكه بين كثيرين، فهو جزئيٌّ كزيد علماً، فإنه إذا تُصُوِّرَ مفهومُهُ يمتنعُ عند العقل صدقُهُ على كثيرين، وإن لم يمنع نفسُ تصور مفهومه عن اشتراكه بين كثيرين، فهو كليٌّ كالإنسان، فإنَّ مفهومه عند العقل لم يمنع من صدقه على كثيرين، وإنما قَيَّدَ بنفس تصور مفهومه في الكلي والجزئي، لأنَّ من الكليات ما يمنع الاشتراك بين أمورٍ متعددة بالنظر إلى الخارج كواجبِ الوجود، فإن الدليل الخارجي يقطعُ عِرْقَ الشِّركة عنه، لكن عند العقل لم يمنع عن صدقه على كثيرين، وإلا لم يُفْتَقَرْ إلى دليل إثبات الوحدانية.

اور میں تقسیم ہوتا ہے، کیونکہ یا تو اس کے مفہوم کا محض ، یعنی اس حیثیت سے کہ وہ متصوَّر ہے، اس میں شرکت کے واقع ہونے سے، یعنی بہت سوں کے درمیان اشتراک سے، مانع ہوگا، یا نہیں ہوگا۔ اگر اس کے مفہوم کا محض تصور اس کے بہت سوں کے درمیان مشترک ہونے سے مانع ہو تو وہ جزئی ہے، جیسے “زید” جب ہو، کیونکہ جب اس کے مفہوم کا تصور کیا جائے تو عقل کے نزدیک اس کا بہت سوں پر صادق آنا ممتنع ہے۔ اور اگر اس کے مفہوم کا محض تصور اس کے بہت سوں کے درمیان مشترک ہونے سے مانع نہ ہو تو وہ کلی ہے، جیسے “انسان”، کیونکہ عقل کے نزدیک اس کا مفہوم اس کے بہت سوں پر صادق آنے سے مانع نہیں۔ [مصنف] نے کلی اور جزئی دونوں میں “اس کے مفہوم کے محض تصور” کی قید اس لیے لگائی کہ بعض کلیات خارج کے لحاظ سے متعدد چیزوں کے درمیان اشتراک سے مانع ہوتی ہیں، جیسے واجب الوجود، کہ خارجی دلیل اس سے شرکت کی جڑ کاٹ دیتی ہے؛ لیکن عقل کے نزدیک [اس کا مفہوم] اس کے بہت سوں پر صادق آنے سے مانع نہیں، ورنہ وحدانیت کے اثبات کے لیے دلیل کی ضرورت نہ ہوتی۔

Sharḥ Īsāghūjī · ص 18

اپنا امتحان لیں

شرح میں جو سمجھایا گیا ہے اس پر 3 سوالات۔ 10 میں سے 6 یا زیادہ (دو ستارے) پر اگلا سبق کھل جاتا ہے۔

  1. سوال 1

    کاتی “عبد اللہ” (“اللہ کا بندہ”) کو، جب وہ علَم (نام) کے طور پر استعمال ہو، لفظِ مفرد شمار کرتے ہیں۔ کیوں؟

  2. سوال 2

    کاتی کے نزدیک “حیوانِ ناطق” بھی کب لفظِ مفرد ہو سکتا ہے؟

  3. سوال 3

    کاتی کے نزدیک کلی کی تعریف میں “محض تصور” کی قید کیوں ہے؟

اگلا سبق: جنس، نوع اور فصل

جاری رکھیں ←