مقفل
قیاس القِيَاس
سرورقتصدیقات · قیاس · 6 میں سے 1
قیاس
al-qiyās
القِيَاس
وہ قول ہے جو ایسے سے ہو کہ جب انہیں تسلیم کر لیا جائے تو ان سے بذاتِ خود ایک دوسرا قول لازماً نکلے۔
تصویر میں
وضاحت
میں دونوں ایک میں شریک ہوتے ہیں۔ مقدمات میں اس کے مقام سے چار بنتی ہیں۔
ہر کی اپنی شرائطِ انتاج ہیں؛ جو ترکیب ان پر پوری نہ اترے وہ ہے۔
یوں بھی لکھا جاتا ہے: قیاس منطقی, قیاسات۔
متن میں
الْقِيَاسُ هُوَ: قَوْلٌ مُؤَلَّفٌ مِنْ أَقْوَالٍ، مَتَى سُلِّمَتْ لَزِمَ عَنْهَا لِذَاتِهَا قَوْلٌ آخَرُ.قیاس وہ قول ہے جو ایسے اقوال سے مرکب ہو کہ جب انہیں تسلیم کر لیا جائے تو ان سے بذاتِ خود ایک دوسرا قول لازم آئے۔مثالیں
- ہر انسان حیوان ہے؛ ہر حیوان جسم ہے؛ لہٰذا ہر انسان جسم ہے ( اوّل)
متعلقہ اصطلاحات
مشق
قیاس پر خود کو آزمائیں۔
مشق پر جائیں · 16 سوالاتاپنا امتحان لیں
3 سوالات۔ 10 میں سے 6 یا زیادہ (دو ستارے) پر اگلی اصطلاح کھل جاتی ہے۔
سوال 1
قیاس کیا ہے؟
ایسے سے ہوتا ہے جنہیں تسلیم کر لیا جائے تو وہ بذاتِ خود ایک اور قول، یعنی ، کو لازم کر دیتے ہیں؛ جو قول کسی چیز کی پہچان کرائے وہ تعریف ہے۔
سوال 2
“ہر کاتب انسان ہے” اور “ہر انسان فانی ہے” کو تسلیم کر لیجیے۔ لازماً کیا نکلتا ہے؟
“انسان” دونوں کو جوڑتا ہے، اس لیے انہیں تسلیم کرنے سے “ہر کاتب فانی ہے” لازم آتا ہے؛ باقی اقوال بذاتِ خود ان مقدمات سے نہیں نکلتے۔
سوال 3
جب مقدمات کی کسی ترکیب کو عقیم کہا جائے تو اس کا کیا مطلب ہے؟
ہونا صورت کا معاملہ ہے، صدق کا نہیں: جب اپنی کی شرائطِ انتاج پر پورے نہ اتریں تو ان سے کوئی لازماً نہیں نکلتا۔
اگلا: قیاسِ اقترانی القِيَاسُ الاقْتِرَانِيّ
جاری رکھیں ←