سرورق / ہندی راستہ · مرحلہ 2 / 25 میں سے سبق 9

مقفل

تعریفات

مرحلہ 3 پر واپس

جھلک

مرحلہ 2 کے سبق 9 کی ایک جھلک۔ مرحلہ 2 مرحلہ 1 کے بعد کھلتا ہے؛ تب تک آپ یہ سبق پڑھ سکتے ہیں، مگر اس کا امتحان اور آگے کا راستہ بند رہے گا۔

ہندی راستہ · مرحلہ 2 · al-Mirqāt · 25 میں سے سبق 9

مسودہ · نظرِ ثانی کا منتظر

تعریفات

تعریف

التَّعْرِيف

عربی متن، Deoband after 1336/1917 کے مطبوعہ نسخے کے مطابق · ترجمہ The Mantiqi، مسودہ

اس متن کے بارے میں

al-Mirqāt المِرْقاة

Faḍl-i Imām Khayrābādī (d. 1243 or 1244/1828–29)

متن
عربی: al-Mirqāt, with al-Shīrkūtī's gloss al-Mirʾāt (gloss not reproduced), checked against the Delhi print of 1286/1869 (Sayyid al-Maṭābiʿ); vowel marks added by The Mantiqi (draft), Kutub Khāna Iʿzāziyya, Deoband after 1336/1917 اسکین دیکھیں
ترجمہ
The Mantiqi کا اپنا؛ مسودہ۔
نظرِ ثانی
مسودہ، Ustadh Muhammad Yusuf کی نظرِ ثانی کا منتظر۔

متن Faḍl-i Imām Khayrābādī

فَصْلٌ فِي التَّعْرِيفاتِ

مُعَرِّفُ الشَّيْءِ ما يُحْمَلُ عَلَيْهِ لِإِفادَةِ تَصَوُّرِهِ، وَهُوَ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسامٍ: الحَدُّ التّامُّ، وَالحَدُّ النّاقِصُ، وَالرَّسْمُ التّامُّ، وَالرَّسْمُ النّاقِصُ؛ فَالتَّعْرِيفُ إِنْ كانَ بِالجِنْسِ القَرِيبِ وَالفَصْلِ القَرِيبِ يُسَمَّى حَدًّا تامًّا، كَتَعْرِيفِ الإِنْسانِ بِالحَيَوانِ النّاطِقِ؛ وَإِنْ كانَ بِالجِنْسِ البَعِيدِ وَالفَصْلِ القَرِيبِ، أَوْ بِهِ وَحْدَهُ، يُسَمَّى حَدًّا ناقِصًا؛ وَإِنْ كانَ بِالجِنْسِ القَرِيبِ وَالخاصَّةِ يُسَمَّى رَسْمًا تامًّا؛ وَإِنْ كانَ بِالجِنْسِ البَعِيدِ وَالخاصَّةِ أَوْ بِالخاصَّةِ وَحْدَها يُسَمَّى رَسْمًا ناقِصًا. مِثالُ الحَدِّ النّاقِصِ تَعْرِيفُ الإِنْسانِ بِالجِسْمِ النّاطِقِ أَوْ بِالنّاطِقِ فَقَطْ، وَمِثالُ الرَّسْمِ التّامِّ تَعْرِيفُ الإِنْسانِ بِالحَيَوانِ الضّاحِكِ، وَمِثالُ الرَّسْمِ النّاقِصِ تَعْرِيفُهُ بِالجِسْمِ الضّاحِكِ أَوْ بِالضّاحِكِ وَحْدَهُ. وَلا دَخْلَ فِي التَّعْرِيفاتِ لِلْعَرَضِ العامِّ؛ لِأَنَّهُ لا يُفِيدُ التَّمْيِيزَ.

شے کا وہ ہے جو اس پر اس کا حاصل کرانے کے لیے کیا جائے، اور اس کی چار قسمیں ہیں: ، حدِّ ناقص، اور رسمِ ناقص۔ پس تعریف اگر قریب اور قریب سے ہو تو اسے حدِّ تام کہا جاتا ہے، جیسے انسان کی تعریف حیوانِ ناطق سے؛ اور اگر جنسِ بعید اور فصلِ قریب سے ہو، یا صرف فصلِ قریب سے، تو اسے حدِّ ناقص کہا جاتا ہے؛ اور اگر جنسِ قریب اور سے ہو تو اسے رسمِ تام کہا جاتا ہے؛ اور اگر جنسِ بعید اور خاصہ سے ہو، یا صرف خاصہ سے، تو اسے رسمِ ناقص کہا جاتا ہے۔ حدِّ ناقص کی مثال انسان کی تعریف جسمِ ناطق سے یا صرف ناطق سے ہے؛ رسمِ تام کی مثال انسان کی تعریف حیوانِ ضاحک سے ہے؛ اور رسمِ ناقص کی مثال اس کی تعریف جسمِ ضاحک سے یا صرف ضاحک سے ہے۔ اور تعریفات میں کا کوئی دخل نہیں، کیونکہ وہ تمیز کا فائدہ نہیں دیتا۔

al-Mirqāt · ص 21

فَصْلٌ

التَّعْرِيفُ قَدْ يَكُونُ حَقِيقِيًّا كَما ذَكَرْنا، وَقَدْ يَكُونُ لَفْظِيًّا، وَهُوَ ما يُقْصَدُ بِهِ تَفْسِيرُ مَدْلُولِ اللَّفْظِ، كَقَوْلِهِمْ: «سَعْدانَةٌ نَبْتٌ» وَ«الغَضَنْفَرُ الأَسَدُ». وَهٰهُنا قَدْ تَمَّتْ مَباحِثُ التَّصَوُّراتِ، أَعْنِي القَوْلَ الشّارِحَ.

تعریف کبھی حقیقی ہوتی ہے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، اور کبھی ، اور وہ ہے جس سے لفظ کے مدلول کی تفسیر مقصود ہو، جیسے ان کا قول: “سعدانہ ایک پودا ہے” اور “غضنفر شیر ہے”۔ اور یہاں کے مباحث، یعنی [کے مباحث]، مکمل ہو گئے۔

al-Mirqāt · ص 22

اپنا امتحان لیں

شرح میں جو سمجھایا گیا ہے اس پر 3 سوالات۔ 10 میں سے 6 یا زیادہ (دو ستارے) پر اگلا سبق کھل جاتا ہے۔

  1. سوال 1

    مرقات کے مطابق انسان کی تعریف “جسمِ ناطق” سے کرنا کس قسم کا معرِّف ہے؟

  2. سوال 2

    عرضِ عام کا تعریفات میں کوئی دخل کیوں نہیں؟

  3. سوال 3

    مرقات کے مطابق “غضنفر شیر ہے” کس قسم کی تعریف ہے؟

اگلا سبق: قضیہ: اقسام، اجزا اور کمیت

جاری رکھیں ←