سرورق / ہندی راستہ · مرحلہ 2 / 25 میں سے سبق 2

مقفل

منطق: واضع، تعریف، موضوع اور غایت

مرحلہ 3 پر واپس

جھلک

مرحلہ 2 کے سبق 2 کی ایک جھلک۔ مرحلہ 2 مرحلہ 1 کے بعد کھلتا ہے؛ تب تک آپ یہ سبق پڑھ سکتے ہیں، مگر اس کا امتحان اور آگے کا راستہ بند رہے گا۔

ہندی راستہ · مرحلہ 2 · al-Mirqāt · 25 میں سے سبق 2

منطق: واضع، تعریف، موضوع اور غایت

مقدمہ

المُقَدِّمَة

عربی متن، Deoband after 1336/1917 کے مطبوعہ نسخے کے مطابق · ترجمہ The Mantiqi، مسودہ

اس متن کے بارے میں

al-Mirqāt المِرْقاة

Faḍl-i Imām Khayrābādī (d. 1243 or 1244/1828–29)

متن
عربی: al-Mirqāt, with al-Shīrkūtī's gloss al-Mirʾāt (gloss not reproduced), checked against the Delhi print of 1286/1869 (Sayyid al-Maṭābiʿ); vowel marks added by The Mantiqi (draft), Kutub Khāna Iʿzāziyya, Deoband after 1336/1917 اسکین دیکھیں
ترجمہ
The Mantiqi کا اپنا؛ مسودہ۔
نظرِ ثانی
مسودہ، Ustadh Muhammad Yusuf کی نظرِ ثانی کا منتظر۔

متن Faḍl-i Imām Khayrābādī

فائِدَةٌ

اِعْلَمْ أَنَّ أَرِسْطاطالِيسَ الحَكِيمَ مُدَوِّنُ هٰذا العِلْمِ بِأَمْرِ الإِسْكَنْدَرِ الرُّومِيِّ، وَلِهٰذا يُلَقَّبُ بِالمُعَلِّمِ الأَوَّلِ، وَالفارابِيُّ هَذَّبَ هٰذا الفَنَّ، وَهُوَ المُعَلِّمُ الثّانِي، وَبَعْدَ إِضاعَةِ كُتُبِ الفارابِيِّ فَصَّلَهُ الشَّيْخُ أَبُو عَلِيِّ بْنُ سِينا.

جان لو کہ حکیم ارسطو نے سکندر رومی کے حکم سے اس کو مدوّن کیا، اور اسی لیے انہیں “معلمِ اوّل” کا لقب دیا جاتا ہے۔ اور فارابی نے اس فن کی تہذیب کی، اور وہ معلمِ ثانی ہیں۔ اور فارابی کی کتابوں کے ضائع ہو جانے کے بعد شیخ ابو علی ابنِ سینا نے اسے تفصیل سے بیان کیا۔

al-Mirqāt · ص 7

فَصْلٌ

وَلَعَلَّكَ عَلِمْتَ مِمّا تَلَوْنا عَلَيْكَ فِي بَيانِ الحاجَةِ حَدَّ المَنْطِقِ وَتَعْرِيفَهُ مِنْ أَنَّهُ عِلْمٌ بِقَوانِينَ تَعْصِمُ مُراعاتُها الذِّهْنَ عَنِ الخَطَإِ فِي الفِكْرِ.

اور شاید تم نے اُس سے جو ہم نے [ کی] حاجت کے بیان میں تمہیں سنایا، منطق کی اور اس کی تعریف جان لی ہوگی، یعنی یہ کہ وہ ایسے قوانین کا ہے جن کی رعایت ذہن کو میں خطا سے بچاتی ہے۔

al-Mirqāt · ص 7

فَصْلٌ

مَوْضُوعُ كُلِّ عِلْمٍ ما يُبْحَثُ فِيهِ عَنْ عَوارِضِهِ الذّاتِيَّةِ لَهُ، كَبَدَنِ الإِنْسانِ لِلطِّبِّ، وَالكَلِمَةِ وَالكَلامِ لِعِلْمِ النَّحْوِ؛ فَمَوْضُوعُ المَنْطِقِ المَعْلُوماتُ التَّصَوُّرِيَّةُ وَالتَّصْدِيقِيَّةُ، لٰكِنْ لا مُطْلَقًا، بَلْ مِنْ حَيْثُ إِنَّها مُوصِلَةٌ إِلَى المَجْهُولِ التَّصَوُّرِيِّ وَالتَّصْدِيقِيِّ.

ہر کا وہ ہے جس کے عوارضِ ذاتیہ سے اس [علم] میں بحث کی جائے، جیسے طب کے لیے انسان کا بدن، اور علمِ نحو کے لیے کلمہ اور کلام۔ پس کا موضوع معلوماتِ تصوریہ اور تصدیقیہ ہیں؛ لیکن مطلقاً نہیں، بلکہ اس حیثیت سے کہ وہ تصوری اور تصدیقی تک پہنچانے والی ہیں۔

al-Mirqāt · ص 7

فائِدَةٌ

اِعْلَمْ أَنَّ لِكُلِّ عِلْمٍ وَصِناعَةٍ غايَةً، وَإِلّا لَكانَ طَلَبُهُ عَبَثًا وَالجِدُّ فِيهِ لَغْوًا، وَغايَةُ عِلْمِ المِيزانِ الإِصابَةُ فِي الفِكْرِ وَحِفْظُ الرَّأْيِ عَنِ الخَطَإِ فِي النَّظَرِ.

جان لو کہ ہر اور ہر (فن) کی کوئی غایت ہوتی ہے، ورنہ اس کی طلب عبث اور اس میں کوشش لغو ہوتی۔ اور علمِ میزان کی غایت میں درستی کو پہنچنا اور رائے کو نظر میں خطا سے محفوظ رکھنا ہے۔

al-Mirqāt · ص 7

فَصْلٌ

لا شُغْلَ لِلْمَنْطِقِيِّ مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ مَنْطِقِيٌّ بِبَحْثِ الأَلْفاظِ، كَيْفَ وَهٰذا البَحْثُ بِمَعْزِلٍ عَنْ غَرَضِهِ وَغايَتِهِ! مَعَ ذٰلِكَ فَلا بُدَّ مِنْ بَحْثِ الأَلْفاظِ الدّالَّةِ عَلَى المَعانِي؛ لِأَنَّ الإِفادَةَ وَالاِسْتِفادَةَ مَوْقُوفَةٌ عَلَيْهِ، وَلِذٰلِكَ يَقَعُ بَحْثُ الدَّلالَةِ وَالأَلْفاظِ فِي كُتُبِ المَنْطِقِ.

منطقی کو، اس حیثیت سے کہ وہ منطقی ہے، کی بحث سے کوئی سروکار نہیں۔ کیسے ہو، جبکہ یہ بحث اس کے مقصد اور غایت سے الگ ہے! اس کے باوجود معانی پر کرنے والے الفاظ کی بحث ضروری ہے، کیونکہ افادہ اور استفادہ (دوسروں کو پہنچانا اور ان سے علم لینا) اسی پر موقوف ہے؛ اور اسی لیے دلالت اور الفاظ کی بحث کی کتابوں میں آتی ہے۔

al-Mirqāt · ص 8

اپنا امتحان لیں

شرح میں جو سمجھایا گیا ہے اس پر 3 سوالات۔ 10 میں سے 6 یا زیادہ (دو ستارے) پر اگلا سبق کھل جاتا ہے۔

  1. سوال 1

    مرقات کے نزدیک کسی علم کے موضوع سے کیا مراد ہے؟

  2. سوال 2

    مرقات کے مطابق منطق کا موضوع کیا ہے؟

  3. سوال 3

    منطقی کو، منطقی ہونے کی حیثیت سے، الفاظ سے کوئی سروکار نہیں۔ پھر منطق کی کتابیں دلالت اور الفاظ سے کیوں بحث کرتی ہیں؟

اگلا سبق: دلالت

جاری رکھیں ←