سرورق / صناعاتِ خمسہ / خطابت
مقفل
خطابت الخَطَابَة
سرورقصناعاتِ خمسہ · 6 میں سے 4
خطابت
al-khaṭāba
الخَطَابَة
وہ ہے جو کسی معتبر شخص سے قبول کیے گئے () یا مقدمات (مظنونات) سے ہو۔
تصویر میں
وضاحت
اس کا مقصد سننے والے کو قائل کرنا اور اسے عمل پر آمادہ کرنا ہے، جیسے وعظ یا نصیحت میں۔
اس کے کسی صاحبِ مرتبہ شخص پر اعتماد کی بنا پر لیے جاتے ہیں، یا محض ہوتے ہیں، جیسے “وہ رات کو گھومتا پھرتا ہے، لہٰذا وہ چور ہے”۔
یوں بھی لکھا جاتا ہے: خطابہ, قیاس خطابی۔
متن میں
وَالْخَطَابَةُ هِيَ: قِيَاسٌ مُؤَلَّفٌ مِنْ مُقَدِّمَاتٍ مَقْبُولَةٍ مِنْ شَخْصٍ مُعْتَقَدٍ فِيهِ أَوْ مَظْنُونَةٍ.خطابت وہ قیاس ہے جو ایسے مقدمات سے مرکب ہو جو کسی ایسے شخص سے قبول کیے گئے ہوں جس پر اعتماد ہو، یا جو محض ظنی ہوں۔متعلقہ اصطلاحات
مشق
اس اصطلاح پر 1 سوال، صناعاتِ خمسہ کی مشق میں۔
مشق پر جائیں · 11 سوالاتاپنا امتحان لیں
3 سوالات۔ 10 میں سے 6 یا زیادہ (دو ستارے) پر اگلی اصطلاح کھل جاتی ہے۔
سوال 1
خطابت وہ قیاس ہے جو مرکب ہو…
ان سے بنتی ہے جو کسی صاحبِ مرتبہ شخص پر اعتماد کی بنا پر قبول کیے گئے ہوں ()، یا محض مقدمات سے (مظنونات)۔
سوال 2
“وہ رات کو گھومتا پھرتا ہے، لہٰذا وہ چور ہے۔” اس دلیل کا مقدمہ…
رات کو گھومنا پھرنا چوری کو صرف ممکن بناتا ہے، یقینی نہیں: یہ وہی ہے جو میں استعمال ہوتا ہے۔
سوال 3
خطابت کا مقصد کیا ہے؟
کا مقصد قائل کرنا اور عمل پر آمادہ کرنا ہے، جیسے وعظ یا نصیحت میں؛ مخالف کو لاجواب کرنا کا مقصد ہے۔
اگلا: شعر الشِّعْر
جاری رکھیں ←